میں جلوہ نما صورتِ مَظہر میں ہوا
خُم خانہء ہستی کے سِکندر میں ہوا
مٹ کر ہی مِلی مجھ کو بقائے سرمد
قطرہ تھا فنا ہو کے سمندر میں ہوا

0
7