| تعلق کے سبھی ملبے پڑے ہیں |
| مرے سینے میں سناٹے پڑے ہیں |
| کبھی جن کے لیے پلکیں بچھائیں |
| وہی پتھر مرے دل میں گڑے ہیں |
| ہوا ٹھہری ہوئی ہے طاقچوں میں |
| دیے بجھ کر زمیں نیچے گرے ہیں |
| گئے وہ دن کہ جب رونق لگی تھی |
| اب اس چوکھٹ پہ سناٹے گھڑے ہیں |
| یہاں سے اب پلٹ جا اے مسافر |
| یہاں قسمت کے ہم مارے پڑے ہیں |
| زمانہ ہو گیا اجڑے ہوئے اب |
| مگر یادوں کے بھی لشکر کھڑے ہیں |
| در و دیوار بھی خاموش ہیں اب |
| کہ اختر خاک میں اوندھے پڑے ہیں |
معلومات