دردِ دل کی صدا بے زباں ہے میاں
یہ مری چشمِ تر کا بیاں ہے میاں
زخم کھائے ہوئے ہیں تو چپ کیوں رہو
درد کہنے کو بھی اک زباں ہے میاں
وقت ظالم ہے اس کے کرشمے بھی دیکھ
دوستی بھی یہاں بدگماں ہے میاں
کون سنتا ہے فریاد دل کی یہاں
اپنے حق میں زمیں آسماں ہے میاں
وصل کی رات بھی اک عذابِ رواں
ہجر کا دن بھی سخت امتحاں ہے میاں
چند لمحے کی راحت غنیمت سمجھ
ورنہ سب کچھ فقط داستاں ہے میاں
ہر کوئی اپنے حصے کا قیدی یہاں
زندگی کا یہی اک سماں ہے میاں
قتل کر کے بھی اختر پہ ہنستا رہا
کیا ہی ظالم ترا یہ جہاں ہے میاں

0
2