کبھی تو دل کے صحرا کو کوئی ابرِ کرم دے
مرے دل کی سیاہی کو اجالا سا قلم دے
مرا چہرہ نہ پڑھ لے یہ زمانہ بے بسی اب
مری آنکھوں کے آئینے کو پھر کوئی بھرم دے
وہ جس کی روشنی سے بجھ گئی شمعِ تمنا
مری پیاسی نگاہوں کو وہی نقشِ قدم دے
بھرم جس سے مرے جذبِ جنوں کا رہ گیا ہو
مجھے وہ یادِ ماضی دے، مجھے وہ درد و غم دے
اندھیروں میں بھٹکتا پھر رہا ہوں مدتوں سے
الٰہی راستہ دکھلا، مجھے نورِ قدم دے
بہت بوجھل ہے دل اپنے گناہوں سے مرا اب
سکونِ روح دے مولیٰ، مری توبہ کو خم دے
تری بندہ نوازی پر فدا ہے میرا ایماں
مجھے اشکِ ندامت دے، مری آنکھوں کو نم دے
نہ دنیا کی طلب ہے اب نہ شہرت کی تمنا
مرے لفظوں کی مٹی کو تو خوشبو کا جنم دے
تری چوکھٹ پہ بیٹھا ہے صدا سے آج اخترؔ
تو اپنی اک نظر دے یا مجھے صبرِ حرم دے

0
5