ہو نہ رستہ کوئی مہیب تیرا
بدلے منظر نہ یہ عجیب تیرا
تیری ہر راہ میں گلاب کھلیں
ہو نہ رستہ کوئی رقیب تیرا
خار چن لوں گا راہوں کے بیٹی
ہو گلستاں ہی اب نصیب تیرا
خوف پائے نہ تیرے دل میں جگہ
ہو مقدر سدا طبیب تیرا
غم کی لہریں تجھے چھو بھی نہ سکیں
بحرِ الفت ہے جب قریب تیرا
ساری دنیا سے لڑ پڑے بابا
بن کے اخترؔ رہے حبیب تیرا

0
6