مرد ہو، عشق سے جہاد کرو
اب مجھے بھول کر نہ یاد کرو
دل سے بیتے دنوں کی یاد مٹاؤ
نہ تو اَب خود ہی رو، نہ مجھ کو رُلاؤ
بھول جاؤ کہی سُنی باتیں!
نہ تو وہ دن ہیں اب نہ وہ راتیں

فاعِلاتن مفاعِلن فَعِلن


0
238
بنا ہے کون، الٰہی، یہ کارواں سالار؟
کہ اہلِ قافلہ مبہوت ہیں، دِرا خاموش
یہ کس کے رعب نے گُدّی سے کھینچ لی ہے زباں؟
کہ باوقار ہیں لب بستہ، بے نوا خاموش
لدا ہوا ہے سروں پر مہیب سناٹا
ہوا کے پاؤں میں زنجیر ہے، فضا خاموش

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


178
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے

0
20
زَردَار کا خَنّاس نہیں جاتا ہے
ہر آن کا وَسواس نہیں جاتا ہے
ہوتا ہے جو شدّتِ ہَوَس پر مَبنی
تا مَرگ وہ افلاس نہیں جاتا ہے

0
31
اشعار کو زر تار قبا دیتا ہوں
افکار کو آہنگ بنا دیتا ہوں
الفاظ کو بخشتا ہوں شکلِ اصنام
آواز کو آنکھوں سے دکھا دیتا ہوں

0
33
اے مرتضیٰ، مدینۂ علمِ خدا کے باب!
اسرارِ حق ہیں، تیری نگاہوں پہ بے نقاب
ہے تیری چشم فیض سے اسلام کامیاب
ہر سانس ہے مکارم اخلاق کا شباب
نقشِ سجود میں، وہ ترے سوز و ساز ہے
فرشِ حرم کو جس کی تجلی پہ ناز ہے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
45
جو مثلِ دوست، عدو کو بھی سرفراز کرے​
اُس آدمی کی خدا زندگی دراز کرے​
وہ کج نہاد ہے آدم کا ناخلف فرزند​
میانِ کافر و مومن جو امتیاز کرے​

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


0
39
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا
یہی تو ہیں دو ستُونِ محکم انہی پہ قائم ہے نظمِ عالم
یہی تو ہے رازِ خُلد و آدم ،نگاہ میری، شباب تیرا
صبا تصدّق ترےنفس پر ،چمن ترے پیرہن پہ قرباں
شمیمِ دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا

مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن مَفاعلاتن


0
258
افق سے سحر مسکرانے لگی
مؤذن کی آواز آنے لگی
یہ آواز ہرچند فرسودہ ہے
جہاں سوز صدیوں سے آلودہ ہے
مگر اس کی ہر سانس میں متصل
دھڑکتا ہے اب تک محمد کا دل

فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعَل


106
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے
لیکن زمیں پہ بت، نہ فلک پر خدا سنے
فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ
لیکن نہ گل، نہ غنچہ، نہ بادِ صبا سنے
خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان
کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
26
عشوؤں کو چین ہی نہیں آفت کئے بغیر
تم اور مان جاؤ شرارت کئے بغیر
اہلِ نظر کو یار دکھاتا رہِ وفا
اے کاش ذکرِ دوزخ و جنت کئے بغیر
اب دیکھ اُس کا حال کہ آتا نہ تھا قرار
خود تیرے دل کو جس پہ عنایت کئے بغیر

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
47
پیوست ہے جو دل میں، وہ تیر کھینچتا ہوں​
اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں​
​گاڑی میں گنگناتا مسرور جا رہا تھا​
اجمیر کی طرف سے جے پور جا رہا تھا​
​تیزی سے جنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی​
لیلیٰ ستار اپنا گویا بجا رہی تھی​

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


0
76
کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے
پہلے گھنیری زُلف پریشاں تو کیجئے
اس نازِ ہوش کو کہ ہے موسیٰ پہ طعنہ زن
اک دن نقاب اُلٹ کے پشیماں تو کیجئے
عُشّاق بندگانِ خُدا ہیں خُدا نہیں
تھوڑا سا نرخِ حُسن کو ارزاں تو کیجئے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
34
بیدار تجربوں کو سلا کر چلی گئی
ہونٹوں سے وہ شراب پلا کر چلی گئی
خس خانۂ دماغ سے اٹھنے لگا دھواں
اِس طرح دل میں آگ لگا کر چلی گئی
میرے کتاب خانۂ ہفتاد سالہ کو
موجوں میں جو در آئے تو قلزم کراہ اٹھیں

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
51
کل فکر یہ تھی کشورِ اسرار کہاں ہے​
اب ڈھونڈ رہا ہوں کہ درِ یار کہاں ہے​
پھر حُسن کے بازار میں بکنے کو چلا ہوں​
اے جنسِ تدبر کے خریدار کہاں ہے​
​پھر روگ لگایا ہے مرے دل کو کسی نے​
اے چارہ گرِ خاطرِ بیمار کہاں ہے​

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
128
آ ہم نشیں نمازِ صبوحی ادا کریں
خوشبوئے عود میں درِ میخانہ وا کریں
ہاں اٹھ کہ مُہرِ شیشۂ گُل رنگ توڑ کر
انسانیت کو دامِ خرد سے رہا کریں
باقی جو بچ رہا ہے کچھ ایمان خیر سے
اُس کو بھی آج پائے صنم پر فدا کریں

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
36
پھر چرخ زن ہے شیب پہ دورِ جواں کی یاد
کاخِ حرم پہ چھائی ہے کوئے بتاں کی یاد
بھیگی تھیں زمزموں کی مسیں جس کی چھاؤں میں
رہ رہ کر آ رہی ہے پھر اُس گلستاں کی یاد
پھر آئی ہے شباب کی رم جھم لیے ہوئے
شب ہائے ابر و باد کے خوابِ گراں کی یاد

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
37
کیا شعلۂ طرّار وہ اللہُ غنی ہے
کیا لرزشِ تابندگیِ سیم تنی ہے
رشکِ مہِ کنعاں ہے غزالِ خُتنی ہے
افشاں ہے کہ آمادگیِ دُر شکنی ہے
تاروں میں بپا غلغلۂ سینہ زنی ہے
کیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
115
غنچے تری زندگی پہ دل ہلتا ہے
بس ایک تبسم کے لئے کھلتا ہے
غنچے نے کہا کہ اس چمن میں بابا
یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے

0
46
الٰہی خلقتِ آدم کے ہیجانی ارادے میں
کروروں ہونکتے فتنے ہیں غلطاں ہم نہ کہتے تھے
تری تسبیح کو حاضر ہے لشکر خانہ زادوں کا
یہ آدم ہے بڑا باغی نرا طاغی کھرا کھوٹا
ڈبو دے گا لہو میں دہر کو یہ خاک کا پتلا
بشر پیغمبرِ شر ہے اِسے پیدا نہ کر مولیٰ

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


246
افسوس شراب پی رہا ہوں تنہا
غلطاں بہ سبو تمام خونِ فن ہا
ٹھٹھری ہوئی ساغر میں نظر آتی ہے
صہبا رضیَ اللہ تعالیٰ عنہا

6
101
یہ دُنیا ذہن کی بازی گری معلُوم ہوتی ہے
یہاں جس شے کو جو سمجھو وہی معلُوم ہوتی ہے
نکلتے ہیں کبھی تو چاندنی سے دُھوپ کے لشکر
کبھی خود دُھوپ نکھری چاندنی معلُوم ہوتی ہے
کبھی کانٹوں کی نوکوں پرلبِ گُل رنگ کی نرمی
کبھی پُھولوں کی خوشبُو میں انی معلُوم ہوتی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


1
140
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

3
580
حیرت ہے، آہِ صبح کو ساری فضا سنے
لیکن زمیں پہ بت، نہ فلک پر خدا سنے
فریادِ عندلیب سے کانپے تمام باغ
لیکن نہ گل، نہ غنچہ، نہ بادِ صبا سنے
خود اپنی ہی صداؤں سے گونجے ہوئے ہیں کان
کوئی کسی کی بات سنے بھی تو کیا سنے

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


1
292