Circle Image

Prof Zia ul Mazhry- The Poet Ophthalmologist

@mazhry

Envisioning the Eyes Illuminating the Hearts- آنکھیں روشن دل منور

آئینے کے سامنے گر بھول کے بھی آؤ گے
اپنے جیسا آدمی اپنے مقابل پاؤ گے
گزرے لمحوں کی طرح میں لوٹ کر نا آؤں گا
جانتا ہوں اب مری جاں تم بہت پچھتاؤ گے
ہے ہمیں معلوم یہ تم دیر کر دو گے بہت
یہ بھی لازم ہے مگر تم لوٹ کے آ جاؤ گے

0
5
جلوہ گر گل بدن نہیں ہوتا
یہ چمن پھر چمن نہیں ہوتا
روز ہوتی ہے کوئی ان ہونی
میرا تجھ سے ملن نہیں ہوتا
تیرے بن ہی گذار دوں جیون
نہیں ہوتا سجن نہیں ہوتا

0
3
درد دل میں بسا کے چلتا ہے
ہم کو اپنا بنا کے چلتا ہے
یوں چلے جیسے کارواں کوئی
اپنا سب کچھ لٹا کے چلتا ہے
چاند بادل میں اب نہیں چھپتا
رُخ سے آنچل ہٹا کے چلتا ہے

0
7
حالِ من غم گسار رہنے دو
میرے غم بے شمار رہنے دو
مختصر سا قیام ہے اپنا
اس کو تو خوشگوار رہنے دو
یہ جو پت جھڑ ہے یہ رہے پت جھڑ
گل کا موسم بہار رہنے دو

0
1
اس درد کا چارہ ہوا نا میں نے شفا پائی
سنتے ہیں ملا تجھ کو اعجازِ مسیحائی
اعجاز فقط ملتا ہے محنت سے دعاؤں سے
دل کی ہو جگر کی یا آنکھوں کی مسیحائی
کیا بات کریں قلب کی سینے کی جگر کی ہم
فرصت ہی نہیں دیتی آنکھوں کی مسیحائی

0
1
تینتیس برس نام رہے دید و بصر کے
ہم ہی نا جانیں گے بھلا بھید نظر کے
کہتے ہیں کہ آنکھوں کی مسیحائی ہے آسان
آنکھوں کی مسیحائی ذرا دیکھو تو کر کے
بجلی سی چمکتی ہے جو ہلتی ہے ذرا آنکھ
شعلہ سا لپکتا ہے کہیں بیچ نظر کے

0
2
صدی یہ بیسویں گذری
دہائی ساتویں یہ تھی
بہت سالوں سے عشروں سے
تھے بیس و بیس کے چرچے
بہت آسیں امیدیں تھی
بہت سی آرزوئیں تھیں

0
4
صاحبِ ہمت ہیں ہم نا صاحبِ شمشیر ہم
ہیں بہت شرمندہ تجھ سے وادئِ کشمیر ہم
تجھ پہ دشمن کا تسلط اب ہمیں کھَلتا نہیں
توڑ پائے نا غلامی کی تری زنجیر ہم
کر سکے محفوظ نا تو بیٹیوں کی چادریں
نا شہیدوں کے لہو کی کر سکے توقیر ہم

0
4
ہے بات بڑے غم کی بپتا یہ ہماری
ہے دائروں میں چلتے ہوئے عمر گزاری
برسوں سے تماشا ہے یہ جاری و ساری
منصف ہے جمورا تو محافظ ہے مداری
اب سانپ بھی نکلیں گے کبوتر بھی اڑیں گے
ہوتا ہے تماشا اور کھلتی ہے پٹاری

0
3
جب ان کا کوچہ و در عاشقان چھوڑ گئے
انہوں نے سمجھا کہ وہ ان کا دھیان چھوڑ گئے
خلش رہی نہ ہی حسرت نہ آرزو نہ جلن
خیال و وہم گئے اور گمان چھوڑ گئے
وہ توشہ ہاتھ میں رکھ لو ہمیں بھی جانا ہے
جہاں میں آئے تھے جو بھی جہان چھوڑ گئے

0
9
ماہرِ چشم اور سخن ور
آنکھیں روشن دل منور
دیپ کو رکھنا ہے روشن
روغنِ دل کو جلا کر
آنکھ کی بینائی سے ہے
قلب کا ادراک بڑھ کر

0
1
28
شاعر: پروفیسر ڈاکٹر ضیاءالمظہری
جلتے ہوئے پروانوں پہ حیراں نہ ہوا کر
یوں میری محبت سے پریشاں نہ ہوا کر
قربان پتنگوں کی طرح ہونے دے ہم کو
یاشمع کی لَو بن کے فروزاں نہ ہوا کر
دل ہی جو نہیں بس میں تو کیا آنکھ کو بولوں

2
233