حالِ من غم گسار رہنے دو
میرے غم بے شمار رہنے دو
مختصر سا قیام ہے اپنا
اس کو تو خوشگوار رہنے دو
یہ جو پت جھڑ ہے یہ رہے پت جھڑ
گل کا موسم بہار رہنے دو
اے خزاؤں کے زرد ُرو پیڑو
کچھ تو آسِ بہار رہنے دو
روز کہتا ہوں آج آئے گا
ضیاؔ کا اعتبار رہنے دو

0
4