صاحبِ ہمت ہیں ہم نا صاحبِ شمشیر ہم
ہیں بہت شرمندہ تجھ سے وادئِ کشمیر ہم
تجھ پہ دشمن کا تسلط اب ہمیں کھَلتا نہیں
توڑ پائے نا غلامی کی تری زنجیر ہم
کر سکے محفوظ نا تو بیٹیوں کی چادریں
نا شہیدوں کے لہو کی کر سکے توقیر ہم
وادیِ کشمیر تیری بے بسی کو دیکھ کر
دل گرفتہ دل شکستہ اور ہیں دلگیر ہم
نام لیوا ہیں حسین ابنِ علی کے ہم سبھی
دل میں پر رکھتے نہیں ہیں جذبہِ شبیر ہم
ہم کو اپنے ہی مسائل سے ابھی فرصت نہیں
معذرت کرتے ہیں تجھ سے وادیِ کشمیر ہم
ہے ضیاؔ زورِ بیاں تحریر میں تقریر میں
بے کسی کم ہمتی کی بن گئے تصویر ہم

0
9