ماہرِ چشم اور سخن ور
آنکھیں روشن دل منور
دیپ کو رکھنا ہے روشن
روغنِ دل کو جلا کر
آنکھ کی بینائی سے ہے
قلب کا ادراک بڑھ کر
عشق کے ہو ساتھ ہر دم
عقل و دانش کا یہ رہبر
مظہریؔ بن جا ضیاؔ کا
تو بھی مظہرؔ اور مصدر
۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سے مرتا ہوں میں تجھ پر
کیا دکھاؤں تجھ کو مر کر
عشق تم سے ہے رہے گا
چاہے کر یا نا یقیں کر
ڈالتا جا اک نظر بس
کچھ نہ بگڑے گا گدا پر
مل مقابل بیٹھ کر دل
تاکا جھانکی سے گیا بھر
اشعار کی تقطیع آساں
شکریہ ذیشان اصغر
دے کے دستک ہے تاسف
بند ہے اب نیم وا در
خود مسیحا ہو دوا تو
ہو مریضِ عشق جاں بر
ذکر تیرا ہر غزل میں
تیرا شاعر تیرا مظہرؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔

0
1
33
معزز قارئین ایک ہی وزن " فاعِلاتن فاعِلاتن" اور ایک ہی بحر "رمل مربع سالم" میں دو غزلیں ملاحظہ فرمائیں۔ اور پہلی غزل کے آخری شعر میں زیرِ استعمال تینوں تخلص مظہریؔ، ضیاؔ اور مظہرؔ کا ستعمال بھی قابلؔ ذکر ہے۔
یہ دونوں غزلیں ہماری نئی ویب سائٹ کے لیے لوگو مرتب کرتے ہوئے موزوں ہوئیں
یاد رہے اس غزل کی خصوصی بات محترم ذیشان اصغر صاحب کی نذر کیا ہوا یہ شعر بھی ہے۔

اشعار کی تقطیع آساں
شکریہ ذیشان اصغر

شاعر : ڈاکٹر ضیاالمظہری

0