اس درد کا چارہ ہوا نا میں نے شفا پائی
سنتے ہیں ملا تجھ کو اعجازِ مسیحائی
اعجاز فقط ملتا ہے محنت سے دعاؤں سے
دل کی ہو جگر کی یا آنکھوں کی مسیحائی
کیا بات کریں قلب کی سینے کی جگر کی ہم
فرصت ہی نہیں دیتی آنکھوں کی مسیحائی
روشن ترے بندوں کی آنکھیں بھی ہوں دل بھی ہوں
دے مجھ کو اے اَللہ وہ اعجازِ مسیحائی
بینائی تو مانگے ہے کبھی دل کی نظر مانگ
آنکھوں سے کہیں بڑھ کے ہے قلب کی بینائی
لے کام بصیرت سے کرے فکر و تدبر بھی
مظہرؔ کو عطا کر دے وہ قلب وہ بینائی

0
6