Circle Image

مقبول حُسین

@maqbool

میرے لبوں کو آگ لگا کر چلا گیا
اپنے لبوں کے نقش مٹا کر چلا گیا
تعبیر دینے آیا تھا خوابوں کی میرے ، وُہ
آیا تو اور خواب دِکھا کر چلا گیا
ساقی کے ساتھ مجھ کو بٹھا کر وُہ بے وفا
زاہد سے مجھ کو رند بنا کر چلا گیا

3
117
کفن بھی میرا بنے گا کسی کی اترن سے
کہ میرے ہاتھ میں کاسہ رہا ہے بچپن سے
امید رکھتا ہوں جلاد سے ، میں سادہ لوح
اتار پھینکے گا پھندا وُہ میری گردن سے
ادھار لے کے جو بچوں کا پیٹ بھرتا ہو
جہیز کیسے وُہ بیٹی کو دے گا ، پنشن سے

5
130
درد جو بھی پیار میں مجھ کو ملا اچھا لگا
ہجر کی سوزن سے خود کو چھیدنا اچھا لگا
پار کرنا تھا مجھے بھی ایک دریا عشق کا
اتفاقاً مجھ کو بھی کچا گھڑا اچھا لگا
گو سمندر اور دریا کا بھی وُہ شیدائی تھا
میری آنکھوں میں پر اس کو تیرنا اچھا لگا

0
11
اوپر سے آیا حکم تو خطبہ بدل لیا
پل بھر میں ہی امام نے فتویٰ بدل لیا
ہر بادشہ کی موت پہ بدلا جو بادشاہ
لوگوں نے زندہ باد کا نعرہ بدل لیا
میں نے مٹا دیں جب سے لکیریں شکست کی
دیوار پر خُدا نے نوشتہ بدل لیا

0
32
کہتے ہیں لوگ آ کے دوا دے گیا مجھے
پیالہ وُہ جب بھی زہر بھرا دے گیا مجھے
مانگا جو میں نے ہاتھ تو وُہ خود پسند شخص
اوقات میں رہوں ، یہ صلا دے گیا مجھے
گذرے قریب سے نہ ترے عشق کی ہوا
روتے ہوئے فقیر دُعا دے گیا مجھے

0
15
پھر مل سکا اس کو کہیں بھی میں نہ زیرِ آسماں
جب رکھ دیا اس نے مجھے جام و سبو کے درمیاں
بس اب تو اس کے دیس میں رہنا ہے چاہے کچھ بھی ہو
ہم تو یہاں پر آ گئے ہیں سب جلا کر کشتیاں
گھر پر مرے آتا نہیں وُہ مِنّتوں کے باوجود
حالانکہ میرے گھر کے رستے میں بچھی ہے کہکشاں

0
22
اترے ہیں خالی ہاتھ سکندر مزار میں
کس بات کا غرور ہے مشتِ غُبار میں
لکھوا دیئے عدو نے وُہ بھی اشتہار میں
الزام جو نہیں تھے مری روبکار میں
اے موت معذرت کہ تُجھے مل سکا نہ میں
مصروف زندگی کے تھا میں کاروبار میں

7
75
محبت سے مری پیاسی زمیں کو تر نہیں کرتا
وہ بارش پیار کی کرتا تو ہے ، جم کر نہیں کرتا
اگر انسان ہے وُہ ، کیوں محبت کا نہیں قائل
اگر انساں نہیں ہے ، کیوں وُہ برپا شر نہیں کرتا
بہت مغرور ہوتے ہیں حسیں لیکن تری مانند
خدا بن جائے ، یہ کوئی بتِ کافر ، نہیں کرتا

4
47
وُہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے میری باگ مسلسل
جدھر کو چاہے وہ موڑے مجھے ہے گھاگ مسلسل
خبر یہ ہے کہ ملے گا کہیں سے لاش کی صورت
خلاف ظلم کے جو گا رہا ہے راگ مسلسل
نہیں ہے خاک سے پیدا ہوئے میں خاک کی تاثیر
لگائے پھرتا ہے چاروں طرف یہ آگ مسلسل

2
35
کٹی ہو جب غلامی میں تو کیا احرار کی باتیں
جھکا کر جب کھڑے ہوں سر تو کیا دستار کی باتیں
وہ “پہلے آپ” ہیں گذرے ہوئے اقدار کی باتیں
“میں پہلے” ہو گئی ہیں اب نئے اطوار کی باتیں
ہمارے گھر کو لوٹا ہے ہمارے گھر کے لوگوں نے
جو ہوں سوراخ کشتی میں تو کیا پتوار کی باتیں

0
18
نہ کسی کو خوفِ خدا یہاں ، نہ ہی بے حسی پہ ملال ہے
یہ بتا رہی ہیں علامتیں کہ یہ شہر روبَہ زوال ہے
جو قلم بھی چھین کے لے گئے ، جو ہیں قفل مُنہ پہ لگا گئے
وُہ نکال دیں گے اب آنکھ بھی ، یہ ہر اک نظر میں سوال ہے
میں نکل گیا غمِ رزق سے ، تو اُلجھ گیا کسی زلف میں
میں ہوں امتحان میں ہر جگہ ، یہ ہے زندگی کہ وبال ہے

0
39