میرے لبوں کو آگ لگا کر چلا گیا
اپنے لبوں کے نقش مٹا کر چلا گیا
تعبیر دینے آیا تھا خوابوں کی میرے ، وُہ
آیا تو اور خواب دِکھا کر چلا گیا
ساقی کے ساتھ مجھ کو بٹھا کر وُہ بے وفا
زاہد سے مجھ کو رند بنا کر چلا گیا
وُہ چھوڑ کر چلا گیا کچھ بھی کہے بغیر
وُہ درد میرا اور بڑھا کر چلا گیا
رہنے دیا ثبوت نہ کوئی بھی میرے پاس
تصویریں اپنی خود ہی جلا کر چلا گیا
ٹھہرا نہ کوئی بند بھی پھر اس کے سامنے
دریا جو میری آنکھ بہا کر چلا گیا
ملتا گلے تھا لگ کے جو مقبول بار بار
رخصت ہوا تو ہاتھ ہلا کر چلا گیا

3
117
ماشآاللہ

خواجہ صاحب، حوصلہ افزائی کے لیے ممنون ہوں۔ بہت شکریہ

0
سنجے کمار راہگیر صاحب، پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ

0