محبت سے مری پیاسی زمیں کو تر نہیں کرتا
وہ بارش پیار کی کرتا تو ہے ، جم کر نہیں کرتا
اگر انسان ہے وُہ ، کیوں محبت کا نہیں قائل
اگر انساں نہیں ہے ، کیوں وُہ برپا شر نہیں کرتا
بہت مغرور ہوتے ہیں حسیں لیکن تری مانند
خدا بن جائے ، یہ کوئی بتِ کافر ، نہیں کرتا
نہیں لگتے ارادے اُس کے میرا ساتھ دینے کے
وُہ اب تک آنکھ میں رہتا ہے، دل میں گھر نہیں کرتا
میں جب بھی عشق کرتا ہوں علیَ الاعلان کرتا ہوں
میں ایسے کام دُنیا سے کبھی ڈر کر نہیں کرتا
ادب ملحوظ رکھتا ہوں ترا دیوانگی میں بھی
میں تیرا ذکر کرتا ہوں تو سَر اوپر نہیں کرتا
کھلا چھوڑا نہیں تم نے ، معافی کا بھی دروازہ
کسی پر یوں خُدا بھی بند سارے در نہیں کرتا
مجھے تاریک لگتی ہے بھلے ہو چودھویں کی رات
وُہ خود جب تک مری جانب رُخِ انور نہیں کرتا
نگلنا بھی بہت مشکل اگلنا بھی نہیں آساں
نوالہ عشق کا ، عاشق جو خوں سے تر نہیں کرتا
مری فطرت ہے یہ مقبول، آنکھیں نم ہی رکھتا ہوں
دکھوں کو پالتا ہوں ، بحر کو میں بر نہیں کرتا

4
57
مطلع ہی ہوا ہے پوری غزل میں
اور زبردست ہوا ہے


0
یونس صاحب، مطلع پسند کرنے پر شکر گذار ہوں

0
مقبول صاحب میری دانست میں آپ کے ہاں اچھا شاعر بننے کے کافی لوازمات موجود ہیں- کوشش اور محنت جاری رکھیں ضرور آگے بڑھ سکتے ہیں

دو ایک باتیں عرض کرنا چاہونگا، آپ کے اشعار میں خیال پایا جاتا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے مگر کہیں کہیں آپ اسے نبھا نہیں سکتے ہیں

مثال کے طور پہ
اگر انسان ہے وُہ ، کیوں محبت کا نہیں قائل
اگر انساں نہیں ہے ، کیوں وُہ برپا شر نہیں کرتا

دیکھیے اگر کوئ انسان نہیں تو ضروری نہیں کہ وہ شیطان ہی ہو وہ فرشتہ بھی ہو سکتا ہے کچھ اور بھی تو پھر آپ نے یہ کیسے مان لیا کہ وہ اگر انسان نہیں ہے تو پھر شر ہی برپا کرے گا؟

نہیں لگتے ارادے اُس کے میرا ساتھ دینے کے
وُہ اب تک آنکھ میں رہتا ہے، دل میں گھر نہیں کرتا

دل میں گھر کرنا سامنے والے کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ جسکا دل ہو اسکے ہاتھ میں ہوتا ہے تو اس سے یہ شکایت غلط ہوگی کہ وہ دل میں گھر نہیں کرتا - یہ اسکا نہیں آپ کا مسئلہ ہوا ،

نگلنا بھی بہت مشکل اگلنا بھی نہیں آساں
نوالہ عشق کا ، عاشق جو خوں سے تر نہیں کرتا

تر ہونے کی اصطلاح صرف نگلنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اگلنے کی لیے نہیں۔ تو یہ بات بے معنٰی ہوئ کہ تر نوالہ
اگلنا بھی آسان ہے

مری فطرت ہے یہ مقبول، آنکھیں نم ہی رکھتا ہوں
دکھوں کو پالتا ہوں ، بحر کو میں بر نہیں کرتا

جب آپ نے خود ہی کیا کہ میں آنکھیں نم رکھتا ہوں تو پھر اگلے مصرعے میں یہ کہنا کہ بحر کو بر نہیں کرتا کیا معنٰی رکھتا ہے آنکھ کو تو آپ بحر کر ہی چکے ہیں نم کر کے۔

اس طرح کی باتیں آپ کے کلام کو آگے جانے سے روک دیں گی۔ ان پہ توجہ دیجیے

اور اگر میری باتیں بری لگیں تو معذرت خواہ ہوں -

0
راشد صاحب، بہت مہربانی کہ آپ نے وقت نکال کر اتنی توجہ سے میری حقیر سی غزل کو پڑھا اور اپنی قیمتی آرا سے نوازا۔ میں بہتری لانے کی کوشش کروں گا۔ بہت شکریہ

0