وُہ اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے میری باگ مسلسل
جدھر کو چاہے وہ موڑے مجھے ہے گھاگ مسلسل
خبر یہ ہے کہ ملے گا کہیں سے لاش کی صورت
خلاف ظلم کے جو گا رہا ہے راگ مسلسل
نہیں ہے خاک سے پیدا ہوئے میں خاک کی تاثیر
لگائے پھرتا ہے چاروں طرف یہ آگ مسلسل
کوئی عذاب اُترنے کو ہے مزید بھی مُجھ پر
جو شام ہوتے ہی کرتے ہیں شور کاگ مسلسل
کرے گا کون ضرورت یہاں غریب کی پوری
ادھر تو مال پہ بیٹھے ہیں شیش ناگ مسلسل
مخاصمت کی بلا ہر جگہ ہے گھومتی پھرتی
اجڑ رہے ہیں یوں مہندی لگے سہاگ مسلسل
ہے مفلسی کا درندہ عقب میں تیرے بھی مقبول
نہیں ہے بھوک سے مرنا اگر تو بھاگ مسلسل

2
46
اچھی سٹیٹمنٹس ہیں

0
شکریہ، یونس صاحب

0