کفن بھی میرا بنے گا کسی کی اترن سے
کہ میرے ہاتھ میں کاسہ رہا ہے بچپن سے
امید رکھتا ہوں جلاد سے ، میں سادہ لوح
اتار پھینکے گا پھندا وُہ میری گردن سے
ادھار لے کے جو بچوں کا پیٹ بھرتا ہو
جہیز کیسے وُہ بیٹی کو دے گا ، پنشن سے
ہے میری آنکھ ہی کافی یہاں برسنے کو
نہ میرے شہر میں آئے یہ کہہ دو ساون سے
میں اس کے پیار میں زندہ رہوں کہ مر جاؤں
وُہ اب نجات دلائے مجھے اس الجھن سے
مرے ہی گھر میں ہے لیکن نظر نہیں آتا
پڑا ہے واسطہ اب کے عجیب دشمن سے
میں اک خمار میں ہوں ، ہوش میں نہیں آیا
ابھی میں لوٹ کے آیا ہوں اس کے درشن سے
بس اس کا دردِ جُدائی جو مل گیا مجھ کو
ملے گا درد بڑا کیا اب اور ، جیون سے
گمان تک نہ تھا مقبول ، ایک دن وُہ شخص
سمجھ کے گرد ، مجھے جھاڑ دے گا دامن سے

5
138
ماشآاللّہ اچھّی کوشش ہے
اور نفسِ مضمون بھی دلنشیں

حوصلہ افزائی کے لیے بہت شکریہ، خواجہ صاحب

0
ماشآاللّہ، بہت زبردست۔۔۔

سید مغیرہ بلال صاحب، بہت نوازش ہے آپ کی

0
سنجے کمار راہگیر صاحب! پسیندیدگی کے لیے شکریہ

0