Circle Image

ملک حسیب علی

@ha5405983

اُس تک پہنچے لاچار تھے ہم

رنج خوش طبع لحافوں میں بَسے دیکھ نہ پائیں
اتنے اچھے نہ بنیں آپ، بُرے دیکھ نہ پائیں
آنکھیں جل جائیں اوائل میں سبھی زود حِسوں کی
کس کے کتنے ہیں عزادار جلے دیکھ نہ پائیں
اتنی سُستی ہے کہ لمحے میں مقید ہیں ازل سے
اتنی عجلت ہے کہ اک بار سمے دیکھ نہ پائیں

12
جھلس گئے ہیں مرے ہاتھ تھامتے اُن کو
وہ جن اجالوں سے روشن جبین کرنی تھی
وہ اپنے باپ سے خود لڑ پڑا وراثت پر
وہ جس کے نام پہ ساری زمین کرنی تھی

0
3
کیا خبر کارزارِ وحشت ہو
آنکھ میری دیارِ وحشت ہو
دوستی میں یہی عقیدہ ہے
کہ مرا یار، یارِ وحشت ہو
ہم نے لبیک ہی کہا اُس پر
اذن ہو یا پکارِ وحشت ہو

0
3
گھونسلے دے کے پرندوں کو شجر کاٹتا ہے
کتنی آسانی سے امید کے پر کاٹنا ہے
وہ دیا جانتا ہے، کیسے سحر کاٹتا ہے
جیسے معذور پہاڑوں کا سفر کاٹتا ہے
چکھ لیا ایک نوالہ تو مرے گا تُو بھی
عشق وہ زہر ہے جو شیر و شکر کاٹتا ہے

0
4
یا تو فرہاد کی کہانی ہے
یا تری یاد کی کہانی ہے
دشت پہ لکھ رہا ہوں میں جس کو
دلِ آباد کی کہانی ہے
میں کہاں اور شاعری ہے کہاں
یہ تری داد کی کہانی ہے

0
5
وہ چارہ گر مری دیوانگی نہیں بھرتا
میں ہوں خلا جو ہوا سے کبھی نہیں بھرتا
کسی بھنور کی طرح اردگرد رہتا ہے
مگر یہ دُکھ ہے کہ انگشتری نہیں بھرتا
میں دشت گھوم کے، محفل بھی دیکھ آیا ہوں
یہ جامِ دنیا مری تشنگی نہیں بھرتا

0
2
اس کار زارِ عشق کا حاصل فقط ہے ہجر
کچھ اس لئے گلاب سے ڈرنے لگا ہوں میں
اس نے مجے کہا ہے مرے پاس آ ذرا
اور دیکھیے جناب سے ڈرنے لگا ہوں میں

0
6
ہجر قصہ نہیں کہانی ہے
آنکھ دریا کا، اشک پانی ہے
اس سے کہنا تمہارے بارے میں
شہر کی اینٹ اینٹ چھانی ہے
کتنی عجلت میں اس نے پوچھا تھا
کیا محبت بھی جاودانی ہے ؟

5
جب سے ملا ہے مجھ کو وہ اک گُل سرِ چمن
بھولا ہوا ہوں یار میں تب سے مرا وطن
منظر سے چوکڑیاں وہ بھرتا گزر گیا
مجھ کو لگا کہ پاس سے گُزرا ہے اک ہِرَن
شب ایک کے وصال میں دن دوسرے کے ساتھ
اچھا نہیں ہے یار زمانے میں یہ چَلَن

0
14
اس کے نہ آنے کو بیٹھ گئے
رات بنانے کو بیٹھ گئے
ایک شجر ملا دشت میں، ہم
سینے لگانے کو بیٹھ گئے
پچپنا اب بھی ہے باقی کہیں
شور مچانے کو بیٹھ گئے

0
19
انہیں ہے خوف میں گاؤں کو چھوڑ آنا ہے
زمیں کے سارے خُداؤں کو چھوڑ آنا ہے
ہے تنگ دل سے گوارا، اگر نظر سے ہوا
اُسے، میں اسکی وفاؤں کو چھوڑ آنا ہے
اداس رہنے لگے ہیں فلک کے باسی وہاں
اِسی لِئے مَیں خلاؤں کو چھوڑ آنا ہے

0
20
غم ایک عشق بھی ہے بتایا نہ کیجئے
اس خواب گاہ سے یوں اٹھایا نہ کیجئے
کاخِ جبینِ یار سے آئی ہے التجا
یوں دیکھ کر تو حشر اٹھایا نہ کیجئے
عشوہ کریں ہیں سامنے وہ روز روز ہی
اس پر گلہ ہمیں سے یوں آیا نہ کیجئے

0
30
کاخِ جبینِ یار سے آئی ہے التجا
سوچا نہ کیجئے ہمیں دیکھا نہ کیجئے
عشوہ کریں ہیں سامنے وہ روز روز ہی
اس پر گلہ ہمیں سے یوں آیا نہ کیجئے
راتوں کے خوف میں وہ کہے تھے یہ ایک دن
تارو یوں آسمان پہ چھایا نہ کیجئے

0
20
کسی کردار میں خود کو سمانا چاہتا ہوں میں
لگی ہے آگ دامن میں بجھانا چاہتا ہوں میں
میں نے خورشید سے نکلی حرارت ماپ لی لیکن
غمِ دل کی پیمائش کا پیمانہ چاہتا ہوں میں
کبھی ہوں آبلہ پا تو کبھی زنجیر میں جکڑا
ستم اس عشق کہ پھر بھی اُٹھانا چاہتا ہوں میں

0
41
اس ہم نفس خاطر سہارے رکھ دئے
سب غم سمندر کہ کنارے رکھ دئے
اُس نے دیے کی مانگ کی ہم سے فقط
ہم نے دریچے میں ستارے رکھ دئے
اُس پارسا پہ آئے نا کوئی حرف
گُفتگو میں بھی اِشارے رکھ دئے

0
34
اتالیقو بتاو کب ہمارا حال بدلے گا
جہالت چھوڑ کر یہ کب زمانہ چال بدلے گا

111
شایانِ شان نہیں ہے کہ اجل آئے جُھکا دیں سر
تیری ظالم اداوں پہ تو پھر کیسے کٹا دیں سر

132
آزادی کہاں ہے؟ مجھے یقین ہے کے کچھ لوگ اسے دیکھتے ہی آگے نکل جائیں گے کیونکہ انہیں وقت نے غلام بنا رکھا ہے لیکن پھر بھی چونکہ میں وقت سے کچھ آزادی حاصل کی یے تو میں اپنی بات مکمل کئے دیتا ہوںآج ۱۴ اگست ہے اور ہر طرف جشنِ آزادی منایا جا رہا ہے میں جس طرف بھی نظر دوڑا رہا ہوں یہی سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے کے جی آج جشنِ آزادی ہے آج کے دن ہم آزاد ہوئے تھے لیکن ساتھ ہی کچھ سوال دل میں گھر کیے جا رہے ہیں کے آزادی کہاں ہے؟ کیا یہ وہی درخت ہے جس کے پروان چڑھنے کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا؟ ہم کس قسم کے ازاد ہیں ؟ کیا یہ واقعی آزادی ہے؟تو آئے اس پر تھوڑا سا تبصرہ کرتے ہیں آگے بڑھنے سے پہلے میں یہاں کچھ کہنا چاہوں گا کہ یہ زنجیریں پہنے بدن پہ ہوئے ہیںکہ غلام اب ہم اپنے وطن کے ہوئے ہیںشاعر : ملک حسیب علیآج چہترواں (74) جشنِ آزادی منایا جا رہا ہے لیکن ہم آج بھی غلام ہیں یقیناً یہ بات کچھ لوگوں ضرور کو ناگوار گزرے گی لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے پہلے ہم انگریزوں کے غلام تھے ان سے آزادی حاصل کی اور ایک الگ آزاد مملکت قائم کی اور کچھ دیر یہ سلسلہ آزادی بہت اچھا چلتا رہا پھرجب عظیم راہنما اس دا

1
107
مرشد آپ ہیں رونق میری
مرشد آپ سے دوری توبہ

98
لمحے وہ جو گزرے تھے نا
صدیاں بیتی پھر نا آئے

112