Circle Image

ملک حسیب علی

@ha5405983

اُس تک پہنچے لاچار تھے ہم

اتالیقو بتاو کب ہمارا حال بدلے گا
جہالت چھوڑ کر یہ کب زمانہ چال بدلے گا

0
13
شایانِ شان نہیں ہے کہ اجل آئے جُھکا دیں سر
تیری ظالم اداوں پہ تو پھر کیسے کٹا دیں سر

0
11
آزادی کہاں ہے؟ مجھے یقین ہے کے کچھ لوگ اسے دیکھتے ہی آگے نکل جائیں گے کیونکہ انہیں وقت نے غلام بنا رکھا ہے لیکن پھر بھی چونکہ میں وقت سے کچھ آزادی حاصل کی یے تو میں اپنی بات مکمل کئے دیتا ہوںآج ۱۴ اگست ہے اور ہر طرف جشنِ آزادی منایا جا رہا ہے میں جس طرف بھی نظر دوڑا رہا ہوں یہی سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے کے جی آج جشنِ آزادی ہے آج کے دن ہم آزاد ہوئے تھے لیکن ساتھ ہی کچھ سوال دل میں گھر کیے جا رہے ہیں کے آزادی کہاں ہے؟ کیا یہ وہی درخت ہے جس کے پروان چڑھنے کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا؟ ہم کس قسم کے ازاد ہیں ؟ کیا یہ واقعی آزادی ہے؟تو آئے اس پر تھوڑا سا تبصرہ کرتے ہیں آگے بڑھنے سے پہلے میں یہاں کچھ کہنا چاہوں گا کہ یہ زنجیریں پہنے بدن پہ ہوئے ہیںکہ غلام اب ہم اپنے وطن کے ہوئے ہیںشاعر : ملک حسیب علیآج چہترواں (74) جشنِ آزادی منایا جا رہا ہے لیکن ہم آج بھی غلام ہیں یقیناً یہ بات کچھ لوگوں ضرور کو ناگوار گزرے گی لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے پہلے ہم انگریزوں کے غلام تھے ان سے آزادی حاصل کی اور ایک الگ آزاد مملکت قائم کی اور کچھ دیر یہ سلسلہ آزادی بہت اچھا چلتا رہا پھرجب عظیم راہنما اس دا

1
50
مرشد آپ ہیں رونق میری
مرشد آپ سے دوری توبہ

30
لمحے وہ جو گزرے تھے نا
صدیاں بیتی پھر نا آئے

0
42