اس وقت تو یوں لگتا ہے اب کچھ بھی نہیں ہے​
مہتاب نہ سورج، نہ اندھیرا نہ سویرا​
آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن​
اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا​

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
217
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"
ہوں کش مکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّت
کچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
111
جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے
جاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے
سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبر
تو اس قدِ دل کش سے جو گلزار میں آوے
تب نازِ گراں مایگیٔ اشک بجا ہے
جب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
29
مت مردُمکِ دیدہ میں سمجھو یہ نگاہیں
ہیں جمع سویدائے دلِ چشم میں آہیں

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
17
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصور
دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
34
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتے
در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہے
غالبؔ کو بُرا کہتے ہو ، اچھا نہیں کرتے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
27
ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو
اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو
اے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰ پہ فغاں ہو
اے ماتمیانِ شہِ مظلوم! کہاں ہو
بگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتی
اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
26
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں
اور اس کے سوا کچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیں
اک سرحدِ معدوم میں ہستی ہے ہماری
سازِ دل بشکستہ کی بیکار صدا ہیں
جس رخ پہ ہوں ہم، سجدہ اسی رخ پہ ہے واجب
گو قبلہ نہیں ہیں مگر اک قبلہ نما ہیں

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
33
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
79
ہوں میں بھی تماشائیٔ نیرنگِ تمنا
مطلب نہیں کچھ اس سے کہ مطلب ہی بر آوے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
21
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے
دل خوں شدۂ کش مکشِ حسرتِ دیدار
آئینہ بہ دستِ بتِ بد مستِ حنا ہے
شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی
جی کس قدر افسردگیٔ دل پہ جلا ہے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
36
غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مۓ گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہ
ہے یوں کہ مجھے دردِ تہِ جام بہت ہے
نے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
30
تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھا
اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا
چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نے
خورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا
توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
29
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
ہے دورِ قدح وجہ پریشانیِ صہبا
یک بار لگا دو خمِ مے میرے لبوں سے
رندانِ درِ مے کدہ گستاخ ہیں زاہد
زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
33
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
کندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
20
دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت​
درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے​
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت​
تمہیدِ مسرت ہے کہ طولِ شبِ غم ہے​
جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں​
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علَم ہے​

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
53
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
جن لوگوں کی تھی درخورِ عقدِ گہر انگشت
کافی ہے نشانی تری چھلّے کا نہ دینا
خالی مجھے دکھلا کے بہ وقتِ سفر انگشت
لکھتا ہوں اسدؔ سوزشِ دل سے سخنِ گرم
تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
18
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
کرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوند
ہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
32
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
مٹ جائے گا سَر ،گر، ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ 'جاؤں؟'
مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
66
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوئے چشمکِ انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن
ہونٹوں پہ مرے جب نفسِ باز پسیں تھا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
1
228
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1
393
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں‌ نہیں ‌دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں‌ نہیں ‌دیتے
دردِ شبِ ہجراں‌ کی جزا کیوں‌ نہیں دیتے
خونِ دلِ وحشی کا صلہ کیوں ‌نہیں دیتے
ہاں ‌نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاں‌ نغمہ گرو ساز‌ صدا کیوں‌ نہیں‌ دیتے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
83
واقف نہیں اِس راز سے آشفتہ سراں بھی
غم تیشۂ فرہاد بھی غم سنگِ گراں بھی
اُس شخص سے وابستہ خموشی بھی بیاں بھی
جو نِشترِ فصّاد بھی ہے اَور رگِ جاں بھی
کِس سے کہیں اُس حُسن کا افسانہ کہ جِس کو
کہتے ہیں کہ ظالم ہے، تو رُکتی ہے زباں بھی

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
119
گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا
یہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا
گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانے
ہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا
منزل کو نہ پہچانے رہِ عشق کا راہی
ناداں ہی سہی ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
45
وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا
اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا
اترا ہے رگ و پے میں تو دل کٹ سا گیا ہے
یہ زہرِ جدائی کہ گوارا بھی کبھی تھا
ہر دوست جہاں ابرِ گریزاں کی طرح ہے
یہ شہر کبھی شہر ہمارا بھی کبھی تھا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
189
کل فکر یہ تھی کشورِ اسرار کہاں ہے​
اب ڈھونڈ رہا ہوں کہ درِ یار کہاں ہے​
پھر حُسن کے بازار میں بکنے کو چلا ہوں​
اے جنسِ تدبر کے خریدار کہاں ہے​
​پھر روگ لگایا ہے مرے دل کو کسی نے​
اے چارہ گرِ خاطرِ بیمار کہاں ہے​

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
127
کیا شعلۂ طرّار وہ اللہُ غنی ہے
کیا لرزشِ تابندگیِ سیم تنی ہے
رشکِ مہِ کنعاں ہے غزالِ خُتنی ہے
افشاں ہے کہ آمادگیِ دُر شکنی ہے
تاروں میں بپا غلغلۂ سینہ زنی ہے
کیا گل بدنی گل بدنی گل بدنی ہے

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


0
114