دربار میں اب سطوتِ شاہی کی علامت​
درباں کا عصا ہے کہ مصنّف کا قلم ہے​
آوارہ ہے پھر کوہِ ندا پر جو بشارت​
تمہیدِ مسرت ہے کہ طولِ شبِ غم ہے​
جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں​
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علَم ہے​
جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاں​
یہ خونِ شہیداں ہے کہ زرخانۂ جم ہے​
حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یارو​
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے​
بحر
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن

0
71

اشعار کی تقطیع

تقطیع دکھائیں