کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا
دوست دارِ دشمن ہے! اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا

فاعِلن مفاعیلن فاعِلن مفاعیلن


564
جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا، مگر، بہ تنگیِ چشمِ حُسود تھا
آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


628
ایک دن باغ میں جا کر، چشمِ حیرت زدہ وا کر، جامۂ صبر قبا کر، طائرِ ہوش اڑا کر شوق کو راہ نما کر، مرغِ نظارہ اڑا کر،
دیکھی رنگت جو چمن کی، خوبی نسرین و سمن کی شکل غنچوں کے دہن کی، تازگی لالہ کے تن کی، تازگی گل کے بدن کی، کشت سبزے کی، ہری تھی، نہر بھی لہر بھری تھی،
ہر خیاباں میں تری تھی، ڈالی ہر گل کی ہری تھی، خوش نسیمِ سحری تھی،
سرو و شمشاد وصنوبر، سنبل و سوسن وعرعر، نخل میوے سے رہے بھر، نفسِ باد معنبر، درو دیوار معطر، کہیں قمری تھی مطوق،
کہیں انگور معلق، نالے بلبل کے مدقق، کہیں غوغائے کی بق بق، اس قدر شاد ہوا دل، مثل غنچے کے گیا کھل
غم ہوا کشتہ و بسمل شادی خاطر سے گئی مل، خرمی ہو گئی حاصل، روح بالیدہ ہو آئی، شان قدرت نے دکھائی جان سے جان میں آئی، باغ کیا تھا گویا اللہ نے اس باغ میں جنت کو اتارا

فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن


0
390
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
کاو کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
جذبہِ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینہِ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


1
623