کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیزتر ہے نگاۂ آئینہ ساز میں
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو ترے عفوِ بندہ نواز میں

متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن


0
671
یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
محروم رہ نہ جائے کل یہ غلام تیرا
جب تک ہے دل بغل میں ہر دم ہو یاد تیری
جب تک زباں ہے منہ میں جاری ہو نام تیرا
ہے تو ہی دینے والا پستی سے دے بلندی
اسفل مقام میرا اعلیٰ مقام تیرا

مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن


636
سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!
یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاں
لیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں
تھیں بنات النعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاں
شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
410
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے
تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


779
اسے ہم نے بہت ڈھونڈھا نہ پایا
اگر پایا تو کھوج اپنا نہ پایا
مقدّر پر ہی گر سود و زیاں ہے
تو ہم نے یاں نہ کچھ کھویا نہ پایا
کہے کیا ہائے زخمِ دل ہمارا
دہن پایا لبِ گویا نہ پایا

مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن


0
290
حسرتِ جلوہِ دیدار لئے پھرتی ہے
پیشِ روزن پسِ دیوار لئے پھرتی ہے
مالِ مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید
وحشتِ دل سرِ بازار لئے پھرتی ہے
کعبہ و دیر میں وہ خانہ بر انداز کہاں
گردشِ کافر و دیں دار لئے پھرتی ہے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


390
بھول گئے تم جن روزوں ہم گھر پہ بلائے جاتے تھے
ہوتے تھے کیا کیا کچھ چرچے عیش منائے جاتے تھے
کیا کیا کچھ تھی خاطرداری کیا کیا پیار کی باتیں تھیں
کس کس ڈھب سے چاہ جتا کر ربط بڑھائے جاتے تھے
کرتے تھے تم ان کی خوشامد جو تھے ہمارے محرمِ راز
ہر ہر بات پہ کیا کیا ان کے ناز اٹھائے جاتے تھے

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


0
282
نہ وہ راتیں نہ وہ باتیں نہ وہ قصّہ کہانی ہے
فقط اک ہم ہیں بستر پر پڑے اور ناتوانی ہے
بھلا میں ہاتھ دھو بیٹھوں نہ اپنی جان سے کیوں کر
خرام اس کے میں اک آبِ رواں کی سی روانی ہے
تو یوں بے پردہ ہو جایا نہ کر ہر ایک کے آگے
نیا عالم ہے تیرا اور نئی کافر جوانی ہے

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


605
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہو گا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا دارا جانے ہے

بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف


784
شب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرۂ ابر آب تھا
شعلۂ جوّالہ ہر اک حلقۂ گرداب تھا
واں کرم کو عذرِ بارش تھا عناں گیرِ خرام
گریے سے یاں پنبۂ بالش کفِ سیلاب تھا
واں خود آرائی کو تھا موتی پرونے کا خیال
یاں ہجومِ اشک میں تارِ نگہ نایاب تھا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
142
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یا رب یہ درِ گنجینہِ گوہر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاوں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
229
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
رنگِ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہے
یہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا
تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
میں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
168
سراپا رہنِ عشق و نا گزیرِ الفتِ ہستی
عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدرِ ظرف ہے ساقی خمارِ تشنہ کامی بھی
جو تو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
88
نہ ہوگا "یک بیاباں ماندگی" سے ذوق کم میرا
حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
92
ستائش گر ہے زاہد ، اس قدر جس باغِ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاقِ نسیاں کا
بیاں کیا کیجئے بیدادِ کاوش ہائے مژگاں کا
کہ ہر یک قطرہِ خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا
نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع ، میرے نالوں کو
لیا دانتوں میں جو تنکا ، ہوا ریشہ نَیَستاں کا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


0
230
دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہِ معنی نہ ہوا
سبزہِ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فَعِلن


0
227
شمارِ سبحہ،" مرغوبِ بتِ مشکل" پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا
بہ فیضِ بے دلی، نومیدیِ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدہِ مشکل پسند آیا
ہوائے سیرِ گل، آئینہِ بے مہریِ قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن


395
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
"عشقِ نبرد پیشہ" طلب گارِ مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن


0
240
شوق، ہر رنگ رقیبِ سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب
تیر بھی سینۂ بسمل سے پَر افشاں نکلا
بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


473
دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند، گویا جل گیا
دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
150