Circle Image

حیدر مرتضٰی

@haidermurtaza

Ghazal, Nazm, Salam

رب کی مرضی یہ راج حیدر کا
رنگ کعبہ پہ آج حیدر کا
بولیں فضہ حبش کی شاہی کہاں
اور کہاں کام کاج حیدر کا
ڈر کے رہتی ہے خاک مرحب کی
دل کے خیبر پہ راج حیدر کا

0
6
جب سے ہم تیرے پرستار ہوئے ہیں
جو مخالف تھے طرفدار ہوئے ہیں
دن کسی طور جو کٹتے ہی نہیں تھے
تیرا ملنا تھا کہ تہوار ہوئے ہیں
رنگ بے رنگ ہوا کرتے تھے پہلے
اس نے پہنے ہیں تو شہکار ہوئے ہیں

0
11
اسکا کچھ ایسے دعا لینا مرے شعروں سے
اپنی تقریر سجا لینا مرے شعروں سے
پوچھتے کیوں ہو مکیں کون ہے میرے دل کا
اسکی تصویر بنا لینا مرے شعروں سے
تیرا ڈمپل تری آنکھیں ترے ابرو ترے ہونٹ
خود کو آئینہ دکھا لینا مرے شعروں سے

0
9
بجھتی آنکھوں میں وہ تصویر اتارا کرنا
مجھکو معلوم ہے پتھر کو ستارا کرنا
دھوپ یہ دھوپ جلا دے نہ تمنا کے گلاب
اے پری رخ ذرا بادل کو اشارا کرنا
میرا مقصود ہے جنت میں فقط اتنا شرف
تیرے پہلو میں شب وروز گزارا کرنا

0
7
مانا کہ ہو بہو ہے کوئی فرق بھی نہیں
لیکن جو بات تجھ میں ہے تصویر میں کہاں
اس نے گرائے بال تو جو معجزہ ہوا
قدرت کی آبشاروں کی تقدیر میں کہاں
ہوگی کہاں بیان ترے لب کی نازکی
حتی کہ شعر میر تقی میر میں کہاں

0
5
بند دریا کو اسی کوزے میں کر لیتا ہوں
جب بھی ملتا ہے اسے آنکھ میں بھر لیتا ہوں
سامنا ہوتا نہیں بات بھی کر لیتا ہوں
عین پت جھڑ میں بہاروں کا اثر لیتا ہوں
جو چرا لائی ہیں خوشبو ئیں بدن کی اسکے
ایسی گستاخ ہوائوں کی خبر لیتا ہوں

0
11
کوئی فردوس بھی گر تیرے مقابل رکھ دے
مجھکو معلوم ہے میں تیری طرف آئوں گا
اس پری زاد کے ہاتھوں میں ہیں باگیں میری
وہ بتائے گا کہ میں کسکی طرف آئوں گا
پھول لائیں گے سبھی سالگرہ پر اسکی
جاں ہتھیلی پہ لیے اسکی طرف آئوں گا

1
16
زخم پہ زخم سجا لگتا ہے
عشق مرا سچا لگتا ہے
آنکھ سے اوجھل ہو جائے تو
جان سے جسم جدا لگتا ہے
تجھ کو دیکھ کے گل کھلتے ہیں
نام بہاروں کا لگتا ہے

0
10
آنکھ سے دوری کیسی دوری ہے
یہ جدائی فقط عبوری ہے
ایک لمحے کو مجھ سے بات کرو
ایک تازہ غزل ادھوری ہے
اس سے کہنی ہیں ان کہی باتیں
شعر کہنا بہت ضروری ہے

0
13
وقت جیسے تھم گیا ہے اسکے گھر جانے کے بعد
سیڑھیاں خاموش ہیں اسکے اتر جانے کے بعد
زخم سارے بھر گئے تھے اس نے جیسے ہی کہا
اچھا دیکھو پھر ملیں گے زخم بھر جانے کے بعد
چال جن کی شاعری میں ہے امر وہ ہرنیاں
رقص میں رہتی ہیں تجھکو دیکھ کر جانے کے بعد

0
17
تمہارے بھول جانے کی جسارت ہو نہیں سکتی
محبت بس محبت ہے تجارت ہو نہیں سکتی
یہاں دستور ٹھہرا ہے مسلسل سنگ باری کا
یہاں تعمیر شیشے کی عمارت ہو نہیں سکتی
جلا ہے حسرتوں کا گھر کسی دشمن کی سازش سے
کسی معصوم بچے کی شرارت ہو نہیں سکتی

1
56
سبز گنبد کے مکیں تک آ گیا
آسماں دیکھو زمیں تک آ گیا
چاند چھپ جائے گا آقا جب کبھی
آپ کے نورِ جبیں تک آ گیا
رک گئے سدرہ پہ جبریلِ امیں
اور وہ پردہ نشیں تک آ گیا

2
22