جب بھی لاہور سے ہجرت کا سوال آتا ہے
مجھکو رہ رہ کے فقط اسکا خیال آتا ہے
تیرے پہلو نے بچا رکھی ہے عزت میری
ورنہ خورشید پہ بھی وقتِ زوال آتا ہے
اس گھڑی بھر کی ملاقات کا خوش رنگ خیال
لے کے نغموں میں مرے رنگِ وصال آتا ہے
گل نکھر جاتے ہیں یونہی جو گزر جائے وہ
رنگ اپنا ہی گلابوں پہ وہ ڈال آتا ہے
مصر والوں کو بتانا ہے حسیں کا مطلب
اب سرِ بزم مرا زہرہ جمال آتا ہے
مانگتا جو بھی تھا بچپن میں مجھے ملتا تھا
تو نہیں ملتا تو مجھکو یہ خیال آتا ہے
اب دعا میں نہیں سجدے میں تجھے مانگتا ہوں
پھر کہیں جا کے عبادت میں کمال آتا ہے
دیکھ پھر سے وہ زلیخا کا جواں ہو جانا
کون کہتا ہے کہ عاشق پہ زوال آتا ہے

0
28