| کوئی فردوس بھی گر تیرے مقابل رکھ دے |
| مجھکو معلوم ہے میں تیری طرف آئوں گا |
| اس پری زاد کے ہاتھوں میں ہیں باگیں میری |
| وہ بتائے گا کہ میں کسکی طرف آئوں گا |
| پھول لائیں گے سبھی سالگرہ پر اسکی |
| جاں ہتھیلی پہ لیے اسکی طرف آئوں گا |
| یہ جو چالیس برس گزرے ہیں بس گزرے ہیں |
| جینا سیکھوں گا میں جب تیری طرف آئوں گا |
| بیٹھا رہنے دو مجھے راہ پہ اسکی حیدر |
| جان جائیگی اگر اپنی طرف آئوں گا |
معلومات