کوئی فردوس بھی گر تیرے مقابل رکھ دے
مجھکو معلوم ہے میں تیری طرف آئوں گا
اس پری زاد کے ہاتھوں میں ہیں باگیں میری
وہ بتائے گا کہ میں کسکی طرف آئوں گا
پھول لائیں گے سبھی سالگرہ پر اسکی
جاں ہتھیلی پہ لیے اسکی طرف آئوں گا
یہ جو چالیس برس گزرے ہیں بس گزرے ہیں
جینا سیکھوں گا میں جب تیری طرف آئوں گا
بیٹھا رہنے دو مجھے راہ پہ اسکی حیدر
جان جائیگی اگر اپنی طرف آئوں گا

1
7
بہت عمدہ کلام