Circle Image

Shoaib Shobi

@Shobi3250

خامشی چیختی ہے غم کا بیاں ہوتا ہے
درد ایسے مِرے اندر کا عیاں ہوتا ہے
یوں نہیں ہجر میں تیرے ہو گئے ہیں تنہا
لاکھوں ہیں اِک بھی مگر تجھ سا کہاں ہوتا ہے
غم کے اظہار کو ہیں دنیا میں حیلے کتنے
ہائے وہ دکھ جو خموشی میں نہاں ہوتا ہے

8
کوئی افسانہ ، کہانی نہ بَلا چاہتی ہے
"روز اِک تازہ خبر خلقِ خدا چاہتی ہے"
لاکھ چہرے ہوں یہاں اپنے بھلے دنیا مگر
مجھ سے ہر حال میں پھر بھی یہ وفا چاہتی ہے
پہلے پہلے تو بتاتی ہے پتا دل کا مجھے
بعد میں کیوں تو بھلا خود ہی شفا چاہتی ہے

0
13
گزرا ہے اس ادا سے کچھ جاتا ہوا یہ سال بھی
"دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
کتنی کٹھن رسائی تھی تیرے دیار تک مِری
دیکھتے ہی جسے پُکارا تو اِسے نکال بھی
ہم کو بلاؤ تم کسی روز کسی نئے نگر
گر یہ نہیں درست آ سکتے ہو ساہی وال بھی

0
17
عاشقی صبر طلب ہے تمھیں معلوم نہیں
غم زدہ ہوں میں مگر تم سا تو مغموم نہیں
انس ہو ، ملنا ملانا ہو ، مگر رنج نہ ہوں
جاؤ معلوم تمھیں عشق کا مفہوم نہیں
دیتا پھرتا ہے زمانے کو تو ایّام مگر
لمحہ کوئی بھی مِرے نام سے موسوم نہیں

0
9
کوئی افسانہ ، کہانی نہ بَلا چاہتی ہے
"روز اک تازہ خبر خلقِ خدا چاہتی ہے"
لاکھ چہرے ہوں یہاں اپنے بھلے دنیا مگر
مجھ سے ہر حال میں پھر بھی یہ وفا چاہتی ہے
پہلے پہلے تو بتاتی ہے پتا دل کا مجھے
بعد میں کیوں تو بھلا خود ہی شفا چاہتی ہے

0
13
ہمارے دل میں غم بے شمار رہتا ہے
ہمارے سر پر تو جو سوار رہتا ہے
مری اداسی کو چھوڑ اور بتا مجھ کو
بچھڑ کے مجھ سے تو بے قرار رہتا ہے
نشہ جو تھا وہ اب ہے اتر گیا سارا
کسی کی چاہت کا پر خمار رہتا ہے

0
4
ہمارے دل میں غم بے شمار رہتا ہے
ہمارے سر پر تو جو سوار رہتا ہے
مری اداسی کو چھوڑ اور بتا مجھ کو
بچھڑ کہ مجھ سے تو سوگوار رہتا ہے ؟
ملا تھا وہ مجھے اک دن کسی شفا خانے
گیا وہ دن مجھے ہر دن بخار رہتا ہے

0
13
ہمارے دل میں غم بے شمار رہتا ہے
ہمارے سر پر تو جو سوار رہتا ہے
مری اداسی کو چھوڑ اور بتا مجھ کو
بچھڑ کہ مجھ سے تو سوگوار رہتا ہے ؟
ملا تھا وہ مجھے اک دن کسی شفا خانے
گیا وہ دن مجھے ہر دن بخار رہتا ہے

0
14
ہمارے دل میں غم بے شمار رہتا ہے
ہمارے سر پر تع جو سوار رہتا ہے
مری اداسی کو چھوڑ اور بتا اتنا
بچھڑ کہ مجھ سے تو بے قرار رہتا ہے

0
17
لگانا نا کبھی دل وفا کا مسئلہ ہے
محبت تھی کبھی اب انا کا مسئلہ ہے
ترا ہے ظن محبت مرا ہی مسئلہ ہے
مرا ہے ظن محبت خدا کا مسئلہ ہے
ہمارے درمیاں اب نہیں قربت رہی جو
ترا مرا نہیں یہ وبا کا مسئلہ ہے

51
مدت ہوئی اس کو تو کہیں دیکھا نہیں ہے
اور بیچ ہمارے کوئی بھی دریا نہیں ہے
خیرات محبت ہمیں تو دے یا نہیں دے
پر ہم کو ترے در سے کہیں جانا نہیں ہے
عامل کی پرستش میں کروں کیوں کر آخر
جو بھی ہو بشر پھر بھی خدا میرا نہیں ہے

57
مدت ہوئی اس کو تو کہیں دیکھا نہیں ہے
اور بیچ ہمارے کوئی بھی دریا نہیں ہے
خیرات محبت ہمیں تو دے یا نہیں دے
پر ہم کو ترے در سے کہیں جانا نہیں ہے
عامل کی پرستش میں کروں کیوں کر آخر
جو بھی ہو بشر پھر بھی خدا میرا نہیں ہے

0
12
مدت ہوئی اس کو تو کہیں دیکھا نہیں ہے
اور بیچ ہمارے کوئی بھی دریا نہیں ہے
خیرات محبت ہمیں تو دے یا نہیں دے
پر ہم کو ترے در سے کہیں جانا نہیں ہے
عامل کی پرستش میں کروں کیوں کر آخر
جو بھی ہو بشر پھر بھی خدا میرا نہیں ہے

0
37
مدت ہوئی اس کو تو کہیں دیکھا نہیں ہے
اور بیچ ہمارے کوئی بھی دریا نہیں ہے
خیرات محبت ہمیں تو دے یا نہیں دے
پر ہم کو ترے در سے کہیں جانا نہیں ہے
عامل کی پرستش میں کروں کیوں کر آخر
جو بھی ہو بشر پھر بھی خدا میرا نہیں ہے

0
26