Circle Image

اسلم راہی

@AslamRahi

سچ جرم ہے تو اس کی سزا دیجیے مجھے
منصور کی مثال بنا دیجیے مجھے
میں دل پہ نقش ہوں تو مٹا دیجیے مجھے
اے اہلِ سہسرام بھلا دیجیے مجھے
اب مجھ میں زندگی کی ذرا بھی رمق نہیں
میں ہوں چراغِ شام بجھا دیجیے مجھے

1
21
حالات نے جینے کا امکان بدل ڈالا
کچھ ریت نئ رکھی رجحان بدل ڈالا
دربارِ دل و جاں کی مشکل تھی نگہبانی
راجہ نے اسی ڈر سے دربان بدل ڈالا
تدریج تدبر نے تعمیر تفکر نے
انسان کے اندر کا انسان بدل ڈالا

0
43
چپ رہ کر بھی شور مچایا جاسکتا ہے
یوں نادیدہ حشر اٹھایا جاسکتا ہے
نم آنکھوں سےخوشیاں بانٹی جاسکتی ہیں
رنجیدہ رہ کر مسکایا جاسکتا ہے
شاہینو..! کچھ دور نہیں ہے نیل گگن بھی
کوئی ستارہ توڑ کے لایا جاسکتا ہے

0
13
422
ماتھے پہ روشنی کے شکن اور کتنی دیر
اب اور کتنی دیر گہن اور کتنی دیر
کب تک ہے اور سلسلہء حکم قیدوبند
آخر یہ رسم دارورسن اور کتنی دیر
مہلت کسے ہے کتنی یہ معلوم کیا ہمیں
کیا جانے تازہ دم ہے بدن اور کتنی دیر

68
اب نہ وہ شام کی رونق نہ سحر کی رونق
قابلِ دید ہے گویا مِرے گھر کی رونق
برق سی کوند رہی تھی جو مِرے آنگن میں
آخرِ کار گئ لے کے نظر کی رونق
راہ میں دھول اڑی یا حسیں منظر گزرے
کار فرما ہے کہانی میں سفر کی رونق

56
ہمارے صحن میں جب خاروخس بکھرنےلگے
نحوستوں سے یہ دیوارودر بھی ڈرنے لگے
فُراتِ شوق دکھا دے اگر کوئ منظر
ہر ایک آدمی آنکھوں میں خون بھرنے لگے
ابھی تو دشت بہت دور ہے پر اہلِ جنوں
براہِ راست بگولوں کے رقص کرنےگے

78
جان دیتے ہیں جان لیتے ہیں
دل سے ہم دل کی مان لیتے ہیں
شعر کہتے ہیں جس زمین میں ہم
وسعتِِ آسمان لیتے ہیں‌
ایک واضح کتاب ہے جہرہ
حال چہرے سے جان لیتے ہیں

0
73
ستارے توڑنا پلکوں سے روشنی کرنا
کسی کی یاد ستائے تو شاعری کرنا
دل و نگاہ جلانا تو شاعری کرنا
کسی کی روشنی لے کر نہ روشنی کرنا
خدا کی دین ہے ورنہ تو یہ ضروری نہیں
سبھی کو آئے کمالِ مصوری کرنا

0
93
دیارِغیر سے کچھ اس قدر ہوئے مانوس
ہم اپنے گھر بھی جو لوٹے تو اجنبی کی طرح

0
56
مِرے ہم رکاب غزال نے مجھے حسنِ شعر عطا کیا
یہ ریاضتِ مہ و سال نے مجھے حسنِ شعر عطا کیا
نہ چراغ بزم سخن رہے نہ شریک رونق فن رہے
دلِ زار حزن و ملال نے مجھے حسنِ شعر عطا کیا
ںہیں دوسرا کوئ اور بھی مِرے ذہن و دل کوتمھارے ہی
شب و روز خواب و خیال نے مجھے حسنِ شعر عطا کیا

0
47
اس دل کو اب لہو کی ضرورت نہیں رہی
رنگین آرزو کی ضرورت نہیں رہی
ہم بے نواؤں پر ترا احسان ہے بہت
اے دوست اب عدو کی ضرورت نہیں رہی
اک داستانِ عالمِ ویراں ہے چشم و دل
دنیاے رنگ و بو کی ضرورت نہیں رہی

0
127