Circle Image

امین بارق

@Aahad786

لاکھوں لوگوں کی محنت کا یکتہ ثمر ہے مرا پاکستان
افزائش ہوئی جس کی لہو سے ایسا شجر ہے مرا پاکستان
آئے دشمن تیرے سبھی سپنے مٹی میں مل جائیں گے
یہ رہے گا رہتی دنیا تک ایسا امر ہے مرا پاکستان
چاند ستارے تو ہیں ہر سوں لیکن ان میں خوبرو کوں ہے
سورج ہے جس پر نازاں اک ایسا قمر ہے مرا پاکستان

0
9
دل بےتاب ہے تو پژمردگی ہے جہاں میں
جس کی طلب میں تھی آنکھ وہ ہی نہیں کارواں میں
کوئے جاناں میں محض میں ہی مجنوں نہیں ہوں
پھر رہا چاند بھی کیسے مضطرب آسماں میں
میں نے تیرے نشتر بھی ہیں سنبھال رکھے
دیکھ پڑی ہیں تری سبھی چٹھیاں اس مکاں میں

0
9
سورج کے ڈھلتے ہی ماتم کیا کرتی تھیں
مرے گاؤں کی شامیں بھی عجیب ھوا کرتی تھیں
جب لوٹ کے آتے تھے پنچھی اپنے گھر کو
کچھ یادیں مجھے باہر لے جایا کرتی تھیں
مارا مارا پھرتا تھا میں ویراں شب میں
چمگادڑیں مرا مزاق اڑایا کرتی تھیں

18
دشوار ہو یا سہل ہو کٹ ہی جائے گی
یہ خوف بھری رات بھی جھٹ ہی جائے گی
بانکا بنا ہے کس لئے تو آخر اک روز
یہ زیست مثل بلبلہ پھٹ ہی جائے گی
باقی رہیں شاید یہ پردے ایں جہاں میں
واں تو سدا دیوار یہ ہٹ ہی جائے گی

0
20
میرے چمن کے بیچ خزاں آئی ہے تب سے
بھائی چارہ کا پودہ مرجھایا ہے جب سے
ہر نفس اندر یوں ہے نفسَ نفسی کا عالم
جیسے عرصہ محشر آ پہنچا ہو کب سے
جو بھی بولے ہے حق کٹ جائے اس کا سر
ہوتا ہے یاں سقراط کے دور کا آغاز اب سے

22
اک درد ہی مجھ کو مرا ہم نوا لگتا ہے
باقی تو ہر کوئی مجھ کو خفا لگتا ہے
مری ساری عمر اس خوش فہمی میں کٹی ہے
کہ وہ شخص بھی شاید میرے پے فدا لگتا ہے
اب تو میں اذیت کے اس درجے پر ہوں جہاں
دکھ بھی مجھے جیسے راحت افزا لگتا ہے

0
39
یہ جو عوام میں فقرہ عام ہے سیاست
میرے ملک کی تو بلکل خام ہے سیاست
گالم گلوج بن چکی ہے یہاں کا شیوہ
ہاں اس لیے تو یاں کی بدنام ہے سیاست
بدنام کر دیا ہے عیاروں نے اسی کو
ورنہ تو ایک پاکیزہ نام ہے سیاست

1
69
خود غرضی سی ہے مرے حلقہ احباب اندر
راہی بھی گیا مر آ کے دشت سراب اندر
جو بادہ خوار کو لطف اندوز نہ کر پائے
کچھ نفع نہیں مے کش کا ایسی شراب اندر
لا حاصل ہے وہ حیات کی ساعت میں پھر سے
جو بھی لُطفِ پیہم ہے عہد شباب اندر

42
اک اور رہبر فرزانہ کو اس چمن آنا ہو گا
ان فصلی بٹیروں سے فصل چمن کو بچانا ہو گا
ہوا کے جھونکوں نے مند دیے ہیں چراغ چمن
مجھے خون جگر سے ان کو پھر سے جلانا ہو گا
شہداء نے لہو دے کے سیراب کی ہے یہ زمیں
اب سمئہ ہے اسے بھی پھولوں کو کھلانا ہو گا

0
42
وہ اک ہستی جس کو ہم ماں کہتے ہیں
بینا دل جس کو سارا جہاں کہتے ہیں
رونق بیت ہے وابستہ ماں کے دم سے
ورنہ تو بھرے گھر کو بھی ویراں کہتے ہیں
جب رخصت ہوئی ماں تو پسر نے رو کے یہ کہا
ماں تجھ بن مجھے لخت جگر کہاں کہتے ہیں

45
شوق مئے ہوا تو ساغر ہی خالی نکلا
میخانے میں ساقی بھی ابدالی نکلا
ایک زمانہ لگا ہے اب جا کے وصل ہوا ہے
صبر فراق بھی میرا کیا ہی مثالی نکلا
مرجھا گئے ہیں گیاھان باردہ بھی چمن میں
صد افسوس اس کا مسئول بھی مالی نکلا

39