Circle Image

Maaz Alee

@whomaazalee

تیری خوشبو سے ہی محکے ہیں یہ صفحاتِ سخن ور

دل لگانا بھی بھول تھا پہلے،
اب جو پتھر ہے پھول تھا پہلے۔
اس سے مل کر ہوا تھا کار آمد،
ورنہ رستوں کی دھول تھا پہلے۔
یہ نمائش سراب کی سی تھی،
میں اسے کب قبول تھا پہلے۔

0
5
دل اداس ہے، دنیا بھی ادھوری لگتی ہے،
قسمتِ لب و رخسار سے بھی دوری لگتی ہے۔
دو دلوں نے بےحد تڑپایا ایک دوجے کو،
کچھ ورق تقاضے اور لاشعوری لگتی ہے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا،
نیند راتوں کی میری اب ادھوری لگتی ہے۔

0
8
ہم پر شہر سے ہجرت کرنا واجب ہے۔
ہیبت تیرے جمال کی گھر میں غالب ہے۔
جو ترے ہجر میں تجلی کی اسیری ملی ہمیں،
تو تجھے سوچنا بھی کچھ غیر مناسب ہے۔
گر قاتل اقدار شرافت ٹھہرے ہم،
تو پھر شہر کا ہم سے الجھنا مناسب ہے۔

0
11
حالاتِ خرابِ دل میں وصال نہیں کرنا،
رو لینا ہے مگر آنکھوں کو لال نہیں کرنا۔
آوارگی کا حق ہے اس شہر کی بے رخی کو،
اس آئینے کی آج تم دیکھ بھال نہیں کرنا۔
سن کر گئے گزرے دنوں کی صدائیں میری تم،
کس حال میں ہوں اب میں، یہ سوال نہیں کرنا۔

0
6
نکل کہ داستاں سے یہ کہاں پہنچے ہیں؟
نگر کی خاک تھے، اب دشت میں ٹھہرتے ہیں۔
غموں کے سائے اتنے تو گہرے بھی نہیں تھے،
فقط یہ دل خاطر، دیکھے اتنے فتنے ہیں۔
وہ ایک رات گزر بھی گئی مگر اب تک،
ہوائے دہر سے دل کے چراغ بجھتے ہیں۔

0
8
فکر کے جلتے پروں پر تنبیہ دعائیں میری،
تکتی ہیں اس کی راہ کو اب بھی نگاہیں میری۔
ٹھہری ہے گونجِ گریہءِ گردِ سفر گھر میں بھی،
اس تاریک سرائے میں ہیں سزائیں میری۔
بجلی، درندے، کالی گھٹائیں گونجتی ہیں،
یہ آسیب جو رہتے ہیں بن کہ بلائیں میری۔

0
8