Circle Image

شیخ سیف اللہ

@saifullahshaikpgr

تیرا وصال ہے، میں ہوں اور ملال ہے
اے زندگی ترا ہر لمحہ کمال ہے
کہنے کو زندگی تو میری ہی ہے مگر
مجھ سے زیادہ مجھ کو ان کا خیال ہے
دل کہہ رہا ہے ہر پل ہر لمحہ بار بار
تو ہی جوابِ ہر اک مشکل سوال ہے

0
4
آ دیکھ یہ کیا مجھ کو ہوا ہے
یہ عشق نہیں ہے تو یہ کیا ہے
میں تجھ کو بھلا کیسے بھلا دوں
تو میرے تہجد کی دعا ہے
یہ آنکھ سے تھمتا ہی نہیں جو
یہ تجھ سے محبت کی سزا ہے

0
12
ابھی آئے اور پھر ابھی چل دئے
بہت مختصر تھا سفر آپ کا
چلے تو گئے پر گئے جس طرح
رہیگا بہت دیر اثر آپ کا

0
4
دل اگر بے زار ہو جائے تو پھر
خار سا لگنے لگے گا پھول بھی
چاہتوں میں قتل بھی ہلکا لگے
دشمنی میں جان لیوا، بھول بھی

0
15
جب بھی دیکھا اس کو دل میرا جواں بنتا گیا
میرا رو کھلتا گیا میں گلستاں بنتا گیا
اسکی آنکھیں، اسکا چہرا، اسکی مسکاں، یا خدا!
سوچ کر سوچوں میں الفت کا سماں بنتا گیا
اک نظر میں بھا گیا تھا مجھ کو جو ظالم کبھی
رابطہ جوں جوں بڑھا وہ سوزِ جاں بنتا گیا

0
10
آنکھ کھلتے ہی سبھی خواب بکھر جاتے ہیں
اک نئی صبح کی سوچ آتے ہی ڈر جاتے ہیں
اب اگر ان سے ملو گے تو یہ کہنا ہم بھی
دیکھ کر بھی انہیں ان دیکھا گزر جاتے ہیں
دل جو مرتا ہے تو بس دل ہی نہیں مر جا تا
دل میں پوشیدہ کئی خواب بھی مر جاتے ہیں

19
دکھڑا کسے سناؤں اک آپ کے علاوہ
دکھتے دلوں کا ہیں بس اک آپ ہی مداوا
اس ایک آس پر دل زندہ ہے آج تک کے
اک روز اس گدا کو بھی آئیگا بلاوا

0
14
دکھڑا کسے سناؤں اک آپ کے علاوہ
دکھتے دلوں کا ہیں بس اک آپ ہی مداوا
اس ایک آس پر دل زندہ ہے آج تک، کہ
اک روز اس گدا کو بھی آئیگا بلاوا

0
15
گزرا جب آزمائش سے دل، کہا: خدا
میں وصل چاہتا تھا تو نے جدا کیا
یعنی کہ مانگا جو تھا وہ تو ملا نہیں
اور جس کا ڈر تھا مجھ کو تو وہ عطا کیا
جب تک کڑی نہ گزری دل پر، تھا موج میں
اور جب بچھڑ گیا دل، ذکرِ خدا کیا

0
12
ابھی یہ زخم تازہ ہے، ذرا رو لینے دو مجھ کو
کوئی پھر یاد آیا ہے ذرا رو لینے دو مجھ کو
کہ بادل جب بھی روتا ہے زمیں زرخیز ہوتی ہے
میرے دل کو بھی جینا ہے ذرا رولینے دو مجھ کو
نہ آنسو رکنے والے ہیں، نہ غم ہی مٹنے والا ہے
ملا ہی زخم ایسا ہے ذرا رولینے دو مجھ کو

0
23
سنا ہے الوداع کہنا بہت آسان ہوتا ہے
مگر کہنے کا وہ لہجہ بڑا بے جان ہوتا ہے
بڑی مشکل سے روکا تھا ندی کو آنکھ میں اپنی
رکائے رکھنا اتنی دیر کب آسان ہوتا ہے

0
17
کب کوئی سجدہ محبت کا ادا ہوتا ہے
لاکھ کوشش بھی کرو پھر بھی قضا ہوتا ہے
سب مقدر کا لکھا ہے یہ تماشہ راہی
ورنہ چاہت سے کہو! کون جدا ہوتا ہے

17
مر کر جیا تھا اس سے بچھڑنے کے بعد دل
آج اس کو پھر سے دیکھ کہ دل پھر سے مر گیا
تن پر لبادہ پھول نزاکت کا اوڑھ کر
مسکایا اس ادا سے کہ دل میں اتر گیا

0
14