Circle Image

شیر نواب باصر

@Basirwrites

Nawabattari

قلم ڈرتا ہے سو لکھتا نہیں مزدور کا غم
کسی کو بھی نظر آتا نہیں مزدور کا غم
ہے کتنا با وفا مزدور سے مزدور کا غم
کہیں بھی چھوڑ کر جاتا نہیں مزدور کا غم
فقط مزدور کو مزدور کا غم مارتا ہے
امیرِ شہر کو ہوتا نہیں مزدور کا غم

4
کہاں ہم کو بھلا اب درد ہوتا ہے
ہمارا درد ہی ہم درد ہوتا ہے
نشانی اہلِ الفت کی بتاؤں کیا
زباں خاموش چہرہ زرد ہوتا ہے
محبت کس کو کہتے ہیں کسے پوچھوں
ہوس کی کھوج میں ہر فرد ہوتا ہے

2
عشق والوں میں ہو گیا کوئی
داغ دامن کے دھو گیا کوئی
چلنے والوں نے پائی منزل تو
بیچ راہوں کے سو گیا کوئی
آج نکلے ہیں سیر گلشن کو
شور برپا ہے لو گیا کوئی

2
جو اب تنقید کرتے ہیں مرے الفاظ پر باصر
کبھی لبیک کہتے تھے مری آواز پر باصر
ابھی باتیں سناتے ہیں مجھے آنکھیں دکھاتے ہیں
جو مسند چھوڑ دیتے تھے مرے اعزاز پر باصر

2
اماوس رات ہے شائد ستارے خوب چمکیں گے
تمہارے حسن کا صدقہ نظارے خوب چمکیں گے
نہ کرنا غور تم باصؔر مری آنکھوں کے دریا پر
تمہارا ذکر ہے آخر کنارے خوب چمکیں گے

1
یہاں وہاں پر کہیں بھی باصر جو گھر جلے ہیں
تمہارے جیسے عظیم لوگوں کے مشغلے ہیں
ہماری فطرت میں سرکشی ہے سو ہم برے ہیں
جو ظلم دیکھیں مگر رہیں چپ وہی بھلے ہیں
انہیں پہ غَرّا جو تیرے ٹکڑوں پہ پل رہے ہیں
کہ ہم تو اپنی ہی روٹی کھا کر بڑھے پلے ہیں

3
ماہ پارہ ہو مہ جبیں ہو تم
زندگی کس قدر حسیں ہو تم
میں نے آہٹ سنی ہے قدموں کی
میرے دل میں یہیں کہیں ہو تم
میں نے تم کو نہیں کیا بے گھر
میرے دل میں ابھی مکیں ہو تم

3
جن کی آمد پہ عرش جھوما ہے
دونوں عالم میں نور پھیلا ہے
چاند اُن کی مثال کیسے ہو
چاند اُن کی گلی کا منگتا ہے
جن کے لب پر نہیں نہیں آتا
ہم فقیروں کا ایسا آقا ہے

9
عشق نے ایک یہی کام کیا
عقل والوں کو خرد خام کیا
عام لوگوں کو کیا خاص کبھی
خاص لوگوں کو کبھی عام کیا
کالی صورت کو کیا چاند کبھی
ماہ پاروں کو سِیاہ فام کیا

2