جو اب تنقید کرتے ہیں مرے الفاظ پر باصر
کبھی لبیک کہتے تھے مری آواز پر باصر
ابھی باتیں سناتے ہیں مجھے آنکھیں دکھاتے ہیں
جو مسند چھوڑ دیتے تھے مرے اعزاز پر باصر

2