تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
پویٹری ورلڈ فیملی لیڈر مختلف سوشل میڈیا چینلز پر
18 جنوری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
اَشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر
دل لرزنے لگا نقشِ در دیکھ کر
اک تمنا نے دل کو جلا رکھا ہے
آگ لگتی ہے اک چشمِ تر دیکھ کر
ہر گلی میں دیے جل اٹھے یادوں کے
ہم تو ٹھہرے تھے ویراں نگر دیکھ کر
اشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر
0
9
18 جنوری 2026
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
سلگتا سا اک سگار ہوں میں
کسی کے لب کی پکار ہوں میں
ضدوں کی ہی اپنی راکھ ٹھہرا
ہوا کا کامل غبار ہوں میں
اٹھا ہے جو سانس سے دھواں اب
دہکتا سا اک شرار ہوں میں
سلگتا سا اک سگار ہوں میں
0
8
12 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
ہو کہاں فانی دنیا کو مکاں کہنے والوں
چند نہ عاقلوں کو اک کارواں کہنے والوں
اپنی کسی صورت نہ بدل پاۓ گی رنگت
اٹھ بھی جاؤ زمیں کو آسماں کہنے والوں
عنقِ زیبا پر لکھا ہے کچھ، تو بتاؤ
تیکھی نظر کو قتل کا ساماں کہنے والوں
المیر بیخود
0
24
6 اکتوبر 2025
آزاد نظم
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
طلسمِ سخن
اے زمِینِ طلسم!
تو نے کب دیکھا کہ ہم نے
اپنے زخموں کو غزل میں ڈھالا
ہر درد کو اک مصرع بنایا
ہر آہ سے اک نغمہ اٹھایا
طلسمِ سخن
0
8
6 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
ان کے آنے تک ہم تہہِ آب ہو جائیں گے
پلکوں پر جل کر خواب سراب ہو جائیں گے
دَشتِ جُنوں میں باقی ہے سَفَر کا نَقشِ خیال
قَدموں کے اُٹھتے ہی ہم بے تاب ہو جائیں گے
شَبِ فُرقت کی جو اذِیَّت ہے، وہ مَت پُوچھو
اشک آنکھوں سے بہہ کے سیلاب ہو جائیں گے
المیر بیخود
0
19
5 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
کہاں تک دردِ دل اپنا عیاں ہے
کہ ہر اک آنکھ میں غم کا گماں ہے
جو گزرا ہے شب و روزِ زماں میں
وہ ہر اک سانس میں قصہ رواں ہے
لگی ہے آگ دل مضطر میں ہر دم
کوئی آہ و نوا ہے نا دھواں ہے
المیر بیخود کی غزلیں
1
37
5 اکتوبر 2025
غزل
Almeer Bekhud
@Almeerbekhud
دل مرا ہے کہ ٹوٹا ہے کوئی بادل
آج رویا یا برسا ہے کوئی بادل
یادوں میں چھایا ہے دھندلا سا منظر بھی
جیسے خوابوں میں آیا ہے کوئی بادل
دشت ہستی ہوئی ہے پیاسی صدیوں سے
کب یہاں آ کے ٹھہرا ہے کوئی بادل
المیر بیخود کی غزلیں
0
33
معلومات