Circle Image

Almeer Bekhud

@Almeerbekhud

پویٹری ورلڈ فیملی لیڈر مختلف سوشل میڈیا چینلز پر

اَشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر
دل لرزنے لگا نقشِ در دیکھ کر
اک تمنا نے دل کو جلا رکھا ہے
آگ لگتی ہے اک چشمِ تر دیکھ کر
ہر گلی میں دیے جل اٹھے یادوں کے
ہم تو ٹھہرے تھے ویراں نگر دیکھ کر

0
9
سلگتا سا اک سگار ہوں میں
کسی کے لب کی پکار ہوں میں
ضدوں کی ہی اپنی راکھ ٹھہرا
ہوا کا کامل غبار ہوں میں
اٹھا ہے جو سانس سے دھواں اب
دہکتا سا اک شرار ہوں میں

0
8
ہو کہاں فانی دنیا کو مکاں کہنے والوں
چند نہ عاقلوں کو اک کارواں کہنے والوں
اپنی کسی صورت نہ بدل پاۓ گی رنگت
اٹھ بھی جاؤ زمیں کو آسماں کہنے والوں
عنقِ زیبا پر لکھا ہے کچھ، تو بتاؤ
تیکھی نظر کو قتل کا ساماں کہنے والوں

0
24
طلسمِ سخن
اے زمِینِ طلسم!
تو نے کب دیکھا کہ ہم نے
اپنے زخموں کو غزل میں ڈھالا
ہر درد کو اک مصرع بنایا
ہر آہ سے اک نغمہ اٹھایا

0
8
ان کے آنے تک ہم تہہِ آب ہو جائیں گے
پلکوں پر جل کر خواب سراب ہو جائیں گے
دَشتِ جُنوں میں باقی ہے سَفَر کا نَقشِ خیال
قَدموں کے اُٹھتے ہی ہم بے تاب ہو جائیں گے
شَبِ فُرقت کی جو اذِیَّت ہے، وہ مَت پُوچھو
اشک آنکھوں سے بہہ کے سیلاب ہو جائیں گے

0
19
کہاں تک دردِ دل اپنا عیاں ہے
کہ ہر اک آنکھ میں غم کا گماں ہے
جو گزرا ہے شب و روزِ زماں میں
وہ ہر اک سانس میں قصہ رواں ہے
لگی ہے آگ دل مضطر میں ہر دم
کوئی آہ و نوا ہے نا دھواں ہے

37
دل مرا ہے کہ ٹوٹا ہے کوئی بادل
آج رویا یا برسا ہے کوئی بادل
یادوں میں چھایا ہے دھندلا سا منظر بھی
جیسے خوابوں میں آیا ہے کوئی بادل
دشت ہستی ہوئی ہے پیاسی صدیوں سے
کب یہاں آ کے ٹھہرا ہے کوئی بادل

0
33