Circle Image

Almeer Bekhud

@Almeerbekhud

پویٹری ورلڈ فیملی لیڈر مختلف سوشل میڈیا چینلز پر

عقل کی باتوں پہ روئے ایک دیوانے کی طرح
جل اٹھا ہے دل ہوائے شب میں پروانے کی طرح
زندگی کی کشمکش سے ہم کو کیا ملنا تھا اور
بس بھلا بیٹھے ہیں خود کو ایک افسانے کی طرح
آرزو کے خون سے روشن کیا تھا جو چراغ
گر گیا ہاتھوں سے ٹوٹے ایک پیمانے کی طرح

0
8
عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
خزاں کے ڈر سے ہم اپنے گلابوں کو جلا بیٹھے
ستاروں سے بغاوت کی، شرر سے دوستی کر لی
فقط اک وہم کی خاطر کتابوں کو جلا بیٹھے
محبت کی تجارت میں بڑا نقصان یوں کھایا
انا کے واسطے سارے حسابوں کو جلا بیٹھے

0
16
قربتوں کے درمیاں اِک فاصلہ رکھا میں نے
عشق کی دیوانگی میں ضابطہ رکھا میں نے
​رخ پہ جب گیسو گرے اور شرم سے پلکیں جھکیں
اُس حیا پرور کے آگے آئینہ رکھا میں نے
​رکھ دیا شانے پہ اُس نے جب وہ روئے ماہتاب
دل کی ہر دھڑکن سے اُس کی رابطہ رکھا میں نے

0
12
چھوڑ دے اے نوحہ گر اب مرثیہ خوانی نہ کر
آنسوؤں سے آگ کے شعلوں کو یوں پانی نہ کر
وقت ماتم کا نہیں ہے وقت ہے للکار کا
تولنے کا وقت ہے اب قبضۂ تلوار کا
میں نے مانا بزم سے اک، مردِ آہن اٹھ گیا
آج محفل سے ہماری جان محفل اٹھ گیا

0
24
مری یہ بات ہے وہم و گمان سے آگے
بچھا ہوا ہے جال اس مچان سے آگے
یہ رنگ و نور کا میلہ فریب ہے سارا
حقیقتیں ہیں سبھی اِس جہان سے آگے
یہ کنجِ بستہ لگتا ہے اب کوئی زنداں
نظر اٹھاؤ ذرا اس مکان سے آگے

0
14
آئے ہیں ستم گر بھی مخمل کی ردا اوڑھے
چپ چاپ کھڑے ہیں ہم چہرے پہ فنا اوڑھے
گونگوں کی عدالت میں ہم کس کو بتاتے غم!
خاموش کھڑے تھے سب ہونٹوں پہ صدا اوڑھے
ہونٹوں پہ تبسم ہے بغل میں ہے چھپا خنجر
ظالم ہیں گلے ملتے زہریلی وفا اوڑھے

0
17
سفر کی دھوپ میں، جلتے سرابوں میں مہکتی ہے
تری یاد آج بھی دل کے خرابوں میں مہکتی ہے
شبِ غم کی سیاہی میں شگوفہ بن کے کھلتی ہے
بدل کر روپ راحت کا، عذابوں میں مہکتی ہے
اسے لفظوں کی یا آواز کی حاجت نہیں پڑتی
مقدس، پاک جذبوں کے حجابوں میں مہکتی ہے

0
25
لب ملے تو خامشی نے بات کی
عشق نے تکمیل میری ذات کی
چاندنی میں گھل گئی تھی چاندنی
کہکشاؤں کو طلب اس رات کی
آئینے میں عکس جب مدغم ہوئے
قربتوں نے فاصلوں کو مات کی

0
22
لفظ سارے تھک چکے ہیں، استعارے بولتے ہیں
شوخ سی اس خامشی میں، دل ہمارے بولتے ہیں
فرش پر جب کوئی عاشق درد سے آہیں بھرے ہے
عرش کی پہنائیوں میں، تب ستارے بولتے ہیں
کشتیاں جب ڈگمگائیں، حوصلے مت ہارنا تم
بحرِ غم میں ڈوبتے کو، خود کنارے بولتے ہیں

0
16
وسعتِ کون و مکاں میں دشتِ امکاں خیمہ زن
چشمِ حیراں کے مقابل رازِ پنہاں خیمہ زن
ٹوٹ کر بکھری ہیں کلیاں آرزو کی شاخ سے
خلوتِ احساس میں اب دردِ ہجراں خیمہ زن
تند لہروں کی طنابیں کھینچتا ہے آسماں
بحرِ ہستی کے سفر میں شورِ طوفاں خیمہ زن

0
12
شہرِ جاناں، کوئے دل، ہر دردِ پنہاں معتبر
مسلکِ دیوانگی میں، عشقِ عریاں معتبر
​عہدِ نو کی جستجو میں لٹ گئی ہر آرزو
سازشِ عقل و خرد، یا جبرِ دوراں معتبر
​تیرگی کی حکمرانی میں بھٹکتی چشمِ تر
موجِ دریا، تند ساحل، شورِ طوفاں معتبر

0
12
فلک پر ہمارا ستارہ نہیں ہے
ہمارے سفر کا کنارہ نہیں ہے
​دلوں میں بسی ہے اسی کی محبت
کہ اس کے سوا کچھ نظارہ نہیں ہے
​جھکی ہیں نگاہیں حیا سے تمہاری
ہماری طرف اک اشارہ نہیں ہے

0
20
وہ محض ایک کچا بدن کہاں تھا...
وہ تو میری کائنات کی واحد چھت تھا!
جب میری ننھی، ملائم انگلیاں
اس کی کھردری، چھالوں بھری ہتھیلیوں کو تھامتی تھیں
تو مجھے لگتا... زمانے کا کوئی طوفان مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔
میں اس کے سینے پر سر رکھتی

0
13
عقل والوں کے جنوں کا آج سودا ہو گیا
چشمِ جاناں کا اشارہ ایک فتنہ ہو گیا
مسکراتے لب، جھکی نظریں، حیا کا سلسلہ
ایک پل کا دیکھنا بھی اک تماشا ہو گیا
ہجر کی تاریک شب میں یاد اس کی آ گئی
درد کا بجھتا شرارہ پھر سے تازہ ہو گیا

0
7
خالقِ ارض و سماوات، مالکِ روزِ جزا
نورِ مطلق، ذاتِ یکتا، کبریا و بے نیاز
صانعِ کل، رازقِ جاں، عالمِ سر و نہاں
قادرِ مطلق، رحیم و مہرباں، بندہ نواز
جلوہِ ربِّ جلیل و قدرتِ پروردگار
قطرہ قطرہ، ذرہ ذرہ، مظہرِ پروردگار

0
13
عشقِ خالق، چشمِ حیراں، سوزِ باطن، فتحِ باب
ذکرِ دائم، فکرِ کامل، نورِ پیہم، لاجواب
دردِ فرقت، یادِ جاناں، شامِ تنہا، جاں گداز
چشمِ پرنم، قلبِ عریاں، آہِ سوزاں، اضطراب
ظلمِ حاکم، آہِ مفلس، جبرِ پیہم، بے اماں
خونِ ناحق، شہرِ ویراں، قومِ برہم، انقلاب

0
14
کبھی خوشی تو کبھی درد کا علم بھی ہے
حیات کیا ہے؟ کوئی مستقل ستم بھی ہے
وہ بے رخی سے جو دیکھے تو مسکرا دینا
شکستہ دل کی حفاظت کا اک بھرم بھی ہے
ہم اپنی آنکھ کی نمی کو خود ہی پیتے ہیں
ہمارے ضبط کی دنیا میں تیرا غم بھی ہے

0
8
اَشک آنکھوں سے ہوتا بے در دیکھ کر
دل لرزنے لگا نقشِ در دیکھ کر
اک تمنا نے دل کو جلا رکھا ہے
آگ لگتی ہے اک چشمِ تر دیکھ کر
ہر گلی میں دیے جل اٹھے یادوں کے
ہم تو ٹھہرے تھے ویراں نگر دیکھ کر

0
13
سلگتا سا اک سگار ہوں میں
کسی کے لب کی پکار ہوں میں
ضدوں کی ہی اپنی راکھ ٹھہرا
ہوا کا کامل غبار ہوں میں
اٹھا ہے جو سانس سے دھواں اب
دہکتا سا اک شرار ہوں میں

0
32
ہو کہاں فانی دنیا کو مکاں کہنے والوں
چند نہ عاقلوں کو اک کارواں کہنے والوں
اپنی کسی صورت نہ بدل پاۓ گی رنگت
اٹھ بھی جاؤ زمیں کو آسماں کہنے والوں
عنقِ زیبا پر لکھا ہے کچھ، تو بتاؤ
تیکھی نظر کو قتل کا ساماں کہنے والوں

35
طلسمِ سخن
اے زمِینِ طلسم!
تو نے کب دیکھا کہ ہم نے
اپنے زخموں کو غزل میں ڈھالا
ہر درد کو اک مصرع بنایا
ہر آہ سے اک نغمہ اٹھایا

0
16
ان کے آنے تک ہم تہہِ آب ہو جائیں گے
پلکوں پر جل کر خواب سراب ہو جائیں گے
دَشتِ جُنوں میں باقی ہے سَفَر کا نَقشِ خیال
قَدموں کے اُٹھتے ہی ہم بے تاب ہو جائیں گے
شَبِ فُرقت کی جو اذِیَّت ہے، وہ مَت پُوچھو
اشک آنکھوں سے بہہ کے سیلاب ہو جائیں گے

0
20
کہاں تک دردِ دل اپنا عیاں ہے
کہ ہر اک آنکھ میں غم کا گماں ہے
جو گزرا ہے شب و روزِ زماں میں
وہ ہر اک سانس میں قصہ رواں ہے
لگی ہے آگ دل مضطر میں ہر دم
کوئی آہ و نوا ہے نا دھواں ہے

43
دل مرا ہے کہ ٹوٹا ہے کوئی بادل
آج رویا یا برسا ہے کوئی بادل
یادوں میں چھایا ہے دھندلا سا منظر بھی
جیسے خوابوں میں آیا ہے کوئی بادل
دشت ہستی ہوئی ہے پیاسی صدیوں سے
کب یہاں آ کے ٹھہرا ہے کوئی بادل

0
38