| کبھی خوشی تو کبھی درد کا علم بھی ہے |
| حیات کیا ہے؟ کوئی مستقل ستم بھی ہے |
| وہ بے رخی سے جو دیکھے تو مسکرا دینا |
| شکستہ دل کی حفاظت کا اک بھرم بھی ہے |
| ہم اپنی آنکھ کی نمی کو خود ہی پیتے ہیں |
| ہمارے ضبط کی دنیا میں تیرا غم بھی ہے |
| مسافروں کو کڑی دھوپ کھا گئی لیکن |
| بھرم میں یاد کے بوڑھے شجر میں خم بھی ہے |
| نہ کوئی ساتھ چلے گا نہ کوئی ٹھہرے گا |
| فنا کی راہ میں عشق اولی قدم بھی ہے |
| یہاں تو مصلحتوں کے لباس ملتے ہیں |
| شریفِ شہر میں ہر شخص محترم بھی ہے |
| سیاہ رات میں توبہ کی دل میں لہر اٹھی |
| گناہ گار پہ مالک کا اب کرم بھی ہے |
معلومات