عقل والوں کے جنوں کا آج سودا ہو گیا
چشمِ جاناں کا اشارہ ایک فتنہ ہو گیا
مسکراتے لب، جھکی نظریں، حیا کا سلسلہ
ایک پل کا دیکھنا بھی اک تماشا ہو گیا
ہجر کی تاریک شب میں یاد اس کی آ گئی
درد کا بجھتا شرارہ پھر سے تازہ ہو گیا
شدتِ آلام میں جب کوئی بھی اپنا نہ تھا
بے بسی میں درد ہی اپنا سہارا ہو گیا
تشنگی میں بھی کبھی احسان شبنم کا نہ لوں
ضبط سے خودداریوں کا قد ہی اونچا ہو گیا
نفرتوں کی آگ میں جلنے لگی ہے ہر گلی
شہر کا آباد منظر آج صحرا ہو گیا
عمر بھر کی دوڑ کا حاصل ملا کچھ بھی نہیں
خواہشوں کی بھیڑ میں انسان رسوا ہو گیا
تاج و تخت و منزلت کی سرکشی یوں مٹ گئی
موت کی دستک سے سارا فخر جھوٹا ہو گیا
خلوتِ شب میں تجلی کا اثر ایسا ہوا
پیکرِ خاکی تڑپ کر محوِ سجدہ ہو گیا
حق کی خاطر مقتلِ باطل میں جو کٹتا گیا
سر کٹا کر حشر تک وہ شخص زندہ ہو گیا

0
4