لب ملے تو خامشی نے بات کی
عشق نے تکمیل میری ذات کی
چاندنی میں گھل گئی تھی چاندنی
کہکشاؤں کو طلب اس رات کی
آئینے میں عکس جب مدغم ہوئے
قربتوں نے فاصلوں کو مات کی
شوق کے دریا روانی میں بہے
حسن نے کیسی غضب کی گھات کی
اک عجب لرزش بدن پر چھا گئی
چھو گئیں پوریں مجھے اس ہات کی

0
20