| مری یہ بات ہے وہم و گمان سے آگے |
| بچھا ہوا ہے جال اس مچان سے آگے |
| یہ رنگ و نور کا میلہ فریب ہے سارا |
| حقیقتیں ہیں سبھی اِس جہان سے آگے |
| یہ کنجِ بستہ لگتا ہے اب کوئی زنداں |
| نظر اٹھاؤ ذرا اس مکان سے آگے |
| ہماری گفتگو کو آسراۓ لفاظی |
| ہے دل کی بات ہماری زبان سے آگے |
| شعورِ ذات نے دکھلایا ہے نیا رستہ |
| گزر گئے ہیں کئی امتحان سے آگے |
| جنونِ عشق کو ملتی نہیں کبھی منزل |
| سفر ہے جاری تمہارے نشان سے آگے |
| وہ روبرو ہو تو پھر کاہے کی کوئی حسرت |
| ہے حال نیم جاں میرا بیان سے آگے |
| سُنے گا کون یہاں پر صدا اے المیرؔ |
| پکار اُس کو، جو ہے آسمان سے آگے |
معلومات