آئے ہیں ستم گر بھی، مخمل کی ردا اوڑھے
چپ چاپ کھڑے ہیں ہم ، چہرے پہ فنا اوڑھے
گونگوں کی عدالت میں، ہم کس کو بتاتے غم!
خاموش کھڑے تھے سب، ہونٹوں پہ صدا اوڑھے
ہونٹوں پہ تبسم ہے، بغل میں ہے چھپا خنجر
ظالم ہیں گلے ملتے، زہریلی وفا اوڑھے
آنکھوں میں سلگتے ہیں، یادوں کے گھنے جنگل
اور خواب ٹھٹھرتے ہیں، پت جھڑ کی ہوا اوڑھے
دربارِ ستم گر میں، اعلانِ بغاوت ہے
راجا ہے زرہ اوڑھے، درویش دعا اوڑھے
المیرؔ محبت کی، بس اتنی حقیقت ہے
اک عمر گزاری ہے، ہم نے یہ سزا اوڑھے

0
8