ہو کہاں فانی دنیا کو مکاں کہنے والوں
چند نہ عاقلوں کو اک کارواں کہنے والوں
اپنی کسی صورت نہ بدل پاۓ گی رنگت
اٹھ بھی جاؤ زمیں کو آسماں کہنے والوں
عنقِ زیبا پر لکھا ہے کچھ، تو بتاؤ
تیکھی نظر کو قتل کا ساماں کہنے والوں
خوش فہمی میں ہو اٹھا کر زمیں اورتخیل
رنگ شدہ بھیڑوں کو غزالاں کہنے والوں
ہوش میں آؤ پیروں کی چنگل سے نکلو
شعبدوں کو بھی حقیقت جاوداں کہنے والوں
اٹھو منزل دور ہے اور کٹھن ہے رستہ
سایہ دار شجر کو سائباں کہنے والوں
باتوں میں ہے تمہاری کب بھلا کوئی تاثیر
سُنی سنائی کو فخرِ زماں کہنے والوں

0
24