| سفر کی دھوپ میں، جلتے سرابوں میں مہکتی ہے |
| تری یاد آج بھی دل کے خرابوں میں مہکتی ہے |
| شبِ غم کی سیاہی میں شگوفہ بن کے کھلتی ہے |
| بدل کر روپ راحت کا، عذابوں میں مہکتی ہے |
| اسے لفظوں کی یا آواز کی حاجت نہیں پڑتی |
| مقدس، پاک جذبوں کے حجابوں میں مہکتی ہے |
| ہوائے تند چلتی ہے، سبھی ناتے بکھرتے ہیں |
| بچا کر ہجر کا خیمہ، طنابوں میں مہکتی ہے |
| گزرتے وقت کے قصے، فقط سوکھے ورق ٹھہرے |
| تری یاد اک گلِ تازہ، کتابوں میں مہکتی ہے |
| سلگتی خاک پر پہلی پھواریں جب برستی ہیں |
| عجب سوندھی مہک بن کر، سحابوں میں مہکتی ہے |
معلومات