سفر کی دھوپ میں، جلتے سرابوں میں مہکتی ہے
تری یاد آج بھی دل کے خرابوں میں مہکتی ہے
شبِ غم کی سیاہی میں شگوفہ بن کے کھلتی ہے
بدل کر روپ راحت کا، عذابوں میں مہکتی ہے
اسے لفظوں کی یا آواز کی حاجت نہیں پڑتی
مقدس، پاک جذبوں کے حجابوں میں مہکتی ہے
ہوائے تند چلتی ہے، سبھی ناتے بکھرتے ہیں
بچا کر ہجر کا خیمہ، طنابوں میں مہکتی ہے
گزرتے وقت کے قصے، فقط سوکھے ورق ٹھہرے
تری یاد اک گلِ تازہ، کتابوں میں مہکتی ہے
سلگتی خاک پر پہلی پھواریں جب برستی ہیں
عجب سوندھی مہک بن کر، سحابوں میں مہکتی ہے

0
19