عقل کی باتوں پہ روئے ایک دیوانے کی طرح
جل اٹھا ہے دل ہوائے شب میں پروانے کی طرح
زندگی کی کشمکش سے ہم کو کیا ملنا تھا اور
بس بھلا بیٹھے ہیں خود کو ایک افسانے کی طرح
آرزو کے خون سے روشن کیا تھا جو چراغ
گر گیا ہاتھوں سے ٹوٹے ایک پیمانے کی طرح
حالِ دل پر مسکراتی ہے مرے فصلِ بہار
اور صبا گزری ہے چھو کر ایک بیگانے کی طرح
شہر کی اس بھیڑ میں المیرؔ کیسا شور ہے
چپ سرِ محفل کھڑے ہیں ایک ویرانے کی طرح

0
8