| وہ محض ایک کچا بدن کہاں تھا... |
| وہ تو میری کائنات کی واحد چھت تھا! |
| جب میری ننھی، ملائم انگلیاں |
| اس کی کھردری، چھالوں بھری ہتھیلیوں کو تھامتی تھیں |
| تو مجھے لگتا... زمانے کا کوئی طوفان مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔ |
| میں اس کے سینے پر سر رکھتی |
| تو اس کے پسینے کی مہک میں مجھے |
| دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ مل جاتی۔ |
| اس نے اپنی ہڈیوں کو گلا کر، میری مسکراہٹیں خریدی تھیں |
| وہ زمانے کی تپتی دھوپ خود سہتا رہا |
| کہیں میرے نرم قدموں میں کوئی کانٹا نہ چبھ جائے |
| اس نے اپنے جوتوں کے گھسے ہوئے تلووں سے |
| میری ریشمی تقدیر بُنی... |
| تھکن سے چور، ہارا ہوا وجود جب وہ شام کو گھر لاتا |
| تو مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے کی جھریاں مسکرا دیتیں |
| وہ اپنا سوکھا ہوا نوالہ بھی میری طرف بڑھا کر کہتا: |
| "میرا پیٹ بھرا ہوا ہے دھیا..." |
| اور پھر... جانے وقت کو کس کی نظر لگی |
| قضا کی ایسی بے رحم آندھی چلی |
| کہ میرے آنگن کا وہ تناور درخت، جڑوں سے اکھڑ گیا |
| وہ ہاتھ... جو میرے ایک آنسو پر بے تاب ہو جاتے تھے |
| وہ ہاتھ، بے جان ہو کر میری گرفت سے پھسل گئے |
| میں چیختی رہی، پکارتی رہی... |
| پر وہ پہلی بار مجھے روتا ہوا چھوڑ کر |
| نجانے کون سی بھاری منوں مٹی کے نیچے جا سویا |
| وہ ہاتھ مٹی میں چھپ گئے، جن کی لکیروں میں میری پناہ لکھی تھی! |
| اب... میرے سر پر کھلا آسمان ہے |
| اور چاروں طرف نوچ لینے والی، چلچلاتی دھوپ! |
| اب کوئی ماتھا چوم کر یہ نہیں کہتا: |
| "پریشان نہ ہو، تیرا بابا ابھی زندہ ہے!" |
| ہر سمت ایک بھیانک، کاٹ کھانے والا سناٹا ہے |
| جو مجھے اندر تک کھوکھلا کر دیتا ہے... |
| لیکن... |
| آج بھی... جب حالات کی کڑی ٹھوکر لگتی ہے |
| جب میں ہجوم میں بالکل تنہا پڑ جاتی ہوں |
| اور ٹوٹ کر گرنے ہی لگتی ہوں... |
| تو میرے کاندھے پر ایک مانوس سی گرمائش اترتی ہے |
| اس کی وہی 'ان دیکھی تھپکی'... |
| جو مجھے روتے روتے مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے |
| اور مجھے کبھی گرنے نہیں دیتی! |
معلومات