| میں راضی ہوں مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا
|
| بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے
|
| کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے
|
| کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے
|
| کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے
|
| پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے
|
|
|