Circle Image

نصیراحمدشاد

@missionsoft

شکایت ہم نہیں کرتے کبھی اپنی سزاؤں پر
کہ ہم تو مسکراتے ہیں غموں کی ان گھٹاؤں پر
​کبھی اہلِ یقیں ہمت نہیں ہارا کیے ہرگز
رکھیں قدموں کو جو بڑھ کر، فلک پر کہکشاؤں پر
​مصیبت، سختیاں ساری خوشی سے جھیل جاتے ہیں
نظر جن کی لگی رہتی ہے اونچی ان فضاؤں پر

0
15
خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
​قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
​حسرتیں تو بے شمار اب دل میں میرے دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے جو، ان کو میں نے کب گنا

0
6
کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور گیا، اس کو بساؤں کیسے
​روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر غمِ دل سب سے چھپاؤں کیسے
​ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے آج جلاؤں کیسے

0
5
پلا دے عشق کا مجھ کو، چھلکتا جام اے ساقی
نہ ہوش اب ہو مرا باقی، ملے آرام اے ساقی
​تری صورت ہی بستی ہے، مرے ان دیدہ و دل میں
تصور میں ترے روتے، کٹے ہر شام اے ساقی
​نگاہِ لطف ہے تیری، مرا کل حاصلِ ہستی
ملا ہے عشق میں تیرے، بڑا انعام اے ساقی

0
6
​خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں
بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں
​سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو
مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں
​حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم
یقین و ہوش کو بھلا کر، گماں میں اترے ہیں

0
6
تو عدم سے اس جہاں میں، مجھ کو لایا میرے رب
میری بگڑی کو ہمیشہ ہی بنایا میرے رب
میری نیا ڈوبتی ہے اب گناہوں میں مگر
تو نے ہی اس کو کنارے پر لگایا میرے رب
آسرا تیرا، تجھی پر ہے بھروسہ آج بھی
اپنی جانب تو نے ہی مجھ کو بلایا میرے رب

0
20