Circle Image

نصیراحمدشاد

@missionsoft

میں راضی ہوں مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا
بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے
​کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے
کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے
کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے
پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے

0
5
ہاتھ اپنا تھام کر ہاتھوں میں اپنے رو پڑا
فکر مت کر شادؔ، تنہا میں ترے ہی ساتھ ہوں

0
7
مل گئے نایاب گوہر کی طرح نیارے سبھی
شادؔ مہنگے یار میرے، جان سے پیارے سبھی

0
4
فقط رقصِ انگار ہے زندگی
کبھی شادؔ پاؤں کے چھالے نہ گن

0
6
کھا گیا ہے وقت جانے کن حسینوں کا جمال
آئینے حیران طاقوں پر کھڑے ہیں آج تک

0
3
ہم نے جس وقت کو مٹھی میں جکڑنا چاہا
ریت بن کر وہی ہاتھوں سے پھسلتا ہی گیا

0
5
اک تماشا ہے سرِ بزمِ جہاں، اور کیا
ہم کھلونے ہیں فقط گردشِ دوراں کے لیے

0
11
​یاد ہے بچپن کی وہ معصوم سی چاہت مجھے
شادؔ دے جاتی ہے اب تک درد کی راحت مجھے

0
10
کاش یہ حسرت نکل جائے کسی دن عشق میں
شادؔ بھی تجھ کو پکارے ناز سے اے جانِ جاں

0
9
عشق میں اے شادؔ ہرگز زور چلتا ہی نہیں
یار گر مانگے جدائی، مسکرا کر مان لو

0
14
​صورتوں کے چاہنے والے بدلتے ہیں سدا
شادؔ قیدی روح کے آزاد ہوتے ہی نہیں

0
10
​مر جاتے ہیں صدمے سے فقط اہلِ فسانہ
ہم درد کی ہر حد سے گزر کر بھی جیے ہیں

0
8
تم نے دیکھا ہے کوئی درد کا پیکر بنتے
شادؔ رگ رگ میں اسے ہم نے اترتے دیکھا

0
9
اپنے ہی خوں سے کیا ہے شادؔ اپنا سر بلند
کس لیے مانگیں بھلا ہم سایۂ دیوارِ دوست

0
17
خواب تو ٹوٹ کے بکھرے ہیں سرِ راہ مگر
شادؔ آنکھوں کی چمک ہم نے نہیں کھونے دی

0
12
عمر بھر کی پیاس لمحے بھر میں ایسے گھل گئی
آج تیری چشمِ تر سے چشمِ تر ملنے لگی

0
6
یہ سلیقہ بھی تو ہے فن میں کمالِ ضبط کا
ہم بچھڑ کر بھی ترا شکوہ نہ محفل میں کریں

0
8
یہ طلسماتی نگر ہے، شادؔ کیسی ہے فضا
ساتھ ہے شیطان یا پھر اِک فرشتہ ہے کھڑا

0
9
فرصت کے ان لمحوں میں
آج تو ہی بتا کیا یار لکھوں؟
مجھے تم سے ہے کتنا پیار لکھوں؟
ہو محبت کا کیسے اظہار لکھوں؟
تیری ترچھی نگاہوں کے وار لکھوں؟
جو تیر ہے دل کے پار لکھوں؟

0
5
کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور گیا، اس کو بساؤں کیسے
روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر غمِ دل سب سے چھپاؤں کیسے
ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے آج جلاؤں کیسے

0
6
خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
​قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
​حسرتیں تو بے شمار اب دل میں میرے دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے جو، ان کو میں نے کب گنا

0
9
پلا دے عشق کا مجھ کو، چھلکتا جام اے ساقی
نہ ہوش اب ہو مرا باقی، ملے آرام اے ساقی
​تری صورت ہی بستی ہے، مرے ان دیدہ و دل میں
تصور میں ترے روتے، کٹے ہر شام اے ساقی
​نگاہِ لطف ہے تیری، مرا کل حاصلِ ہستی
ملا ہے عشق میں تیرے، بڑا انعام اے ساقی

0
8
​خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں
بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں
​سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو
مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں
​حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم
یقین و ہوش کو بھلا کر، گماں میں اترے ہیں

0
8
شکایت ہم نہیں کرتے کبھی اپنی سزاؤں پر
کہ ہم تو مسکراتے ہیں غموں کی ان گھٹاؤں پر
​کبھی اہلِ یقیں ہمت نہیں ہارا کیے ہرگز
رکھیں قدموں کو جو بڑھ کر، فلک پر کہکشاؤں پر
​مصیبت، سختیاں ساری خوشی سے جھیل جاتے ہیں
نظر جن کی لگی رہتی ہے اونچی ان فضاؤں پر

0
10
نگاہوں میں ترا چہرہ، تو ہم کیسے بکھر جائیں
بتا اے جانِ من! ہم چھوڑ کر تجھ کو کدھر جائیں
تری صورت تری الفت کو ہم ترسے بہت جاناں
کہیں یادوں کے اس گہرے سمندر میں گزر جائیں
ہمیں ہر پل ستاتا ہے، تمہارا ہی خیال اب تو
تری چاہت کی بارش میں، تمنا ہے نکھر جائیں

0
7
آئینے میں نہ زلفیں سنوارا کرو
اپنی نظروں کا صدقہ اتارا کرو
دیکھ کر چاندنی بھی لجانے لگی
اس قدر تم نہ خود کو نکھارا کرو
اوڑھ لو تم ردائے محبت میری
میرے جذبات کو نہ ابھارا کرو

0
9
پیار کی راگنی کی ہے دُھن
آ ذرا دل کی دھڑکن کو سُن
دل میں ہر دم رہے تو ہی تو
تیری چاہت بھی گائے گی گُن
پھل ملے جس سے خوشیوں بھرا
خواب آنکھوں میں ایسے تو بُن

0
10
اک کسک سی مجھے رُلانے لگے
یاد تیری مجھے ستانے لگے
سنگ تیرے جو پل گزارے کبھی
زندگی میں وہی سہانے لگے
یاد تیری میں کھو کے اے ہمنوا
حالِ دل اب تجھے سنانے لگے

0
5
یاد کی تتلی ہتھیلی پہ بٹھا لی میں نے
سوئی الفت بھی سرِ شام جگا لی میں نے
سامنے ہیں تیری باتوں کے چمکتے تارے
خوشبو قربت کی خیالوں میں بسا لی میں نے

0
7
شبِ ہجراں، اکیلے اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے
یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے
پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے میرے ساقی تو
یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے

0
11
وہ نازک موم کی صورت، پگھل جائے کسی دن بھی
دکھوں کی حدتوں سے تم، اسے ہر پل بچا رکھنا
یہ دل اس کا لگے سچے، گہر کی اک حسیں مالا
اسے آغوشِ الفت میں، مرے شادؔ اب چھپا رکھنا

0
9
یہ ہستی چاک پر رکھ کر، نیا پیکر سجا ڈالوں
امنگوں کی دہکتی آگ میں خواہش جلا ڈالوں
ترے رنگِ محبت سے اسے ایسا رچا ڈالوں
تو جیسا یار چاہے، آج میں ویسا بنا ڈالوں

0
10
یہ دل اس دید کی خاطر، بہت بیتاب رہتا ہے
مری آنکھوں میں ہر لمحہ، ملن کا خواب رہتا ہے
کہو اے شادؔ! یہ نظریں، اسے کیسے بھلا دیکھیں
کہ اس کے حسنِ کامل پر، حیا کا باب رہتا ہے

0
12
محبتوں کی ڈگر پر اسیرِ غم ٹھہرے
کبھی تھے خندہ جبیں ہم، فقیرِ غم ٹھہرے
​جو حالِ دل کو بتائیں تو کس طرح جاناں
ہماری چشم کے آنسو سفیرِ غم ٹھہرے
​مِلی ہے ہم کو محبت میں بس یہی دولت
کہ ہم دیارِ وفا میں امیرِ غم ٹھہرے

0
19
تو عدم سے اس جہاں میں، مجھ کو لایا میرے رب
میری بگڑی کو ہمیشہ ہی بنایا میرے رب
میری نیا ڈوبتی ہے اب گناہوں میں مگر
تو نے ہی اس کو کنارے پر لگایا میرے رب
آسرا تیرا، تجھی پر ہے بھروسہ آج بھی
اپنی جانب تو نے ہی مجھ کو بلایا میرے رب

0
32