Circle Image

نصیراحمدشادؔ

@missionsoft

کلامِ شادؔ ✍️ | میری غزلیں، میرا اثاثہ

کسی کی جو بیٹی سہے ظلم چُپ
اسے فتح مندی نہ سمجھو ذرا
مقدر جو پلٹا کبھی کھائے گا
تو آتی ہے اپنے ہی گھر سے صدا

0
6
دل میں جب سے آ بسا ہے تیری چاہت کا شعور
ہر گھڑی رہتا ہے طاری، اب مری جاں پر سرور
​کیمیا گر عشقِ حق ہے، دل کی دنیا کے لیے
سنگِ دل کو یہ تراشے، لعل کر دے گا ضرور
​شوق دیدارِ الٰہی نے کیا تھا بے قرار
عشق ہی لے کر چلا موسیٰ کو سوئے کوہِ طور

0
11
جدائی کی کٹھن شب اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے
یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے
پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے ساقیا اب تو
یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے

0
5
رضا تیری مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا
بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے
کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے
کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے
کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے
پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے

0
9
سنگ جوڑا تو نے میرا نام بھی
ہے چھپایا دل میں تیرا نام بھی
عشق کی اس بے خودی کے شہر میں
آ گیا ہے یاد چہرہ، نام بھی
زندگی کی دھوپ میں ہر موڑ پر
بن گیا ہے ایک سایہ، نام بھی

0
6
ہجومِ دنیا میں میرا پتا نہیں ملتا
صدائے دل کا کہیں بھی سرا نہیں ملتا
بھرا ہوا ہے مرا دل غمِ زمانے سے
مجھے سکوں کا بھی کوئی خلا نہیں ملتا
تعلقوں میں یہ کیسی تھکن سی طاری ہے
مری خطا پہ بھی کوئی خفا نہیں ملتا

0
5
ہاتھ بیگم کا بٹانے چل پڑے
آج کچھ جوہر دکھانے چل پڑے
گول پیڑا بھی نہ ہم سے بن سکا
ہم نئی روٹی بنانے چل پڑے
سوپ میں مرچیں بہت سی ڈال کر
لذتیں اس کی بڑھانے چل پڑے

0
6
مجھ سے یہ پوچھتے ہیں، سخنور ہو کیوں
دل کے اندر یہ بہتا سمندر ہو کیوں
جب نگاہوں میں آباد ہو تم ہی تم
روبرو دوسرا اور منظر ہو کیوں
پیار کی راہ میں دشمنی کیوں بھلا
اک ذرا سی خطا پر یہ محشر ہو کیوں

0
5
مسکرا کر اشک ہم نے آج سارے پی لیے
شادؔ دیکھو حوصلے سے زخم دل کے سی لیے

0
5
ہو گئی ہے خامشی ہی اب ہماری گفتگو
شادؔ ہم کو اب نہیں ہے راستوں کی جستجو

0
9
راستے کی دھول میں ہم اس قدر گم ہو گئے
شادؔ اب تاریکیوں کے ہم سفر ہم ہو گئے

0
6
جاگتے ہیں ہجر میں ہم غم کے مارے رات بھر
اشک سے روشن کیے ہم نے ستارے رات بھر
​عشق کی تاریک راہوں میں بھٹکتے ہی رہے
درد کے سائے رہے اپنے سہارے رات بھر
​دل میں یادوں کی چتا جلتی رہی ہے دیر تک
آسماں پر چاند نے دیکھے نظارے رات بھر

0
16
جھوٹ کا اس دور میں چرچا بہت ہی عام ہے
سچ مگر سولی چڑھا، کتنا برا انجام ہے
​بے گناہوں کے لیے تو، طوقِ زنداں ہے یہاں
قاتلوں کے واسطے اب، ہر طرف انعام ہے
​دولتوں کی دوڑ میں اندھا ہوا ہے ہر بشر
لب پہ تہذیبوں کے دعوے، پر طبیعت خام ہے

0
15
درد سینے وچ چھپا کے، مسکرانا پے گیا
یار دی خاطر اسانوں، جگ بھلانا پے گیا
​چھڈ دتی سبھ میں انا، تے سر جھکانا پے گیا
رس گیا اوہ، تے سجن نوں، اج منانا پے گیا
درد دل وچ جاگیا جد، رات دے پچھلے پہر
ہنجواں نوں سبھ دی نظراں، توں لکانا پے گیا

0
4
زندگی کے راستے پر
چلتے چلتے
رک گیا ہوں
سوچتا ہوں
کیا یہی منزل ہے میری؟
یا مسافت اور بھی ہے؟

0
19
چلو دل کی بستی بسا کر تو دیکھو
کبھی رسمِ الفت نبھا کر تو دیکھو
​گھٹا غم کی چھائی ہوئی ہے دلوں پر
ذرا شمعِ چاہت جلا کر تو دیکھو
​ہوائیں ہیں نفرت کی چلتی ہر اک سو
گھروں کو وفا سے سجا کر تو دیکھو

0
17
بھلا کر یہ جھوٹے زمانے چلیں ہم
چلو اب پرانے ٹھکانے چلیں ہم
​یہاں کوئی اپنا نہیں ہے کسی کا
سمجھ کر یہ سارے بہانے چلیں ہم
​وفا کا طریقہ بدل کر دکھائیں
نئی اک روایت بنانے چلیں ہم

0
10
یہ درندے ہیں ہوس کے، ہیں شیاطیں کی سپاہ
ہر طرف کرتے پھریں جو، بے گناہوں کو تباہ
آبگینوں کو یہ توڑیں، توڑ ڈالیں پتیاں
خوف سے ویران کر دیں، شہر کی سب بستیاں
کر رہے ہیں یہ تقدس والے رشتوں کو ہلاک
ان کی فطرت میں رذالت، ان کے چہرے شرمناک

0
9
تیری ہستی گر کسی کے واسطے بھی بار ہے
سجدہ تیرا، بندگی تیری سبھی بیکار ہے
دوسروں کو جو اذیت دے رہا ہے رات دن
رحمتِ رب کا بھلا کب آدمی حقدار ہے؟
کس لیے ہے اس قدر تجھ کو عبادت پر غرور
جب ترا ہم جنس ہی تجھ سے سدا بیزار ہے

0
19
نکلے جو اک بھنور سے تو لاچار ہو گئے
ہم پھر نئے بھنور میں گرفتار ہو گئے
اپنا سمجھ رہے تھے جسے، غیر تھا وہی
چہرے سبھی کے ہم پہ نمودار ہو گئے
تعمیر کر ہی لیتے، یقیں کا محل مگر
دشمن ہی ان فصیلوں کے معمار ہو گئے

0
11
چار حرفوں کی محبت، اک بہانہ ہو گیا
دشمن اب تو شادؔ کا سارا زمانہ ہو گیا

0
12
کبھی ہم گم رہے تیری محبت کے خیالوں میں
ہمیں اب اپنی تنہائی سے ہی فرصت نہیں ملتی

0
9
مِری بیٹی مِرے مالک کی نعمت
رہے اُس پر سدا تیری یہ رحمت
کبھی اُس کے قدم کو غم نہ پائے
مِلے اُس کو زمانے کی مسرت
مِلے اُس کو سدا دانش کی دولت
رہے روشن سدا اُس کی ذہانت

0
20
زندگی میں ہم سفر ایسا چنو جو پاس ہو
بن کہے ہر بات سمجھے، اور دل کو راس ہو
لفظ معنی کھو نہ دیں، اپنی وضاحت میں کہیں
ہاں ضروری ہے کہ اس کو روح کا احساس ہو
شادؔ! ورنہ ذات کا بس ترجمہ رہ جائے گا
عمر ساری رائیگاں ہو، زندگی بن باس ہو

0
18
گونجتی ہے الست کی جو صدا
روح نے تب کہا تڑپ کے، بلیٰ
دل کو دیوانہ کر گئی آخر
حُسنِ مطلق کی دل نشیں اک ادا
چھوڑ کر لامکاں کی وسعت کو
بن گیا خاک کا اسیرِ فنا

0
17
بیویوں کو تو سکھا ڈالا کہ شوہر ہی ہے رب
مرد کو کیسا خدا ہونا ہے، سمجھایا ہے کب؟

0
14
ہم نے چاہا اسے ہم بھی چاہے گئے
دل یہ پھر کیوں ہمارے دکھائے گئے
جان بے تاب تھی، دل بھی بے چین تھا
اس قدر عشق میں ہم ستائے گئے
آسمانوں پہ تھے ہم محبت میں کل
خاک پر آج کیسے گرائے گئے

0
24
ہاتھ اپنا تھام کر ہاتھوں میں اپنے رو پڑا
فکر مت کر شادؔ، تنہا میں ترے ہی ساتھ ہوں

0
16
مل گئے نایاب گوہر کی طرح نیارے سبھی
شادؔ مہنگے یار میرے، جان سے پیارے سبھی

0
18
فقط رقصِ انگار ہے زندگی
کبھی شادؔ پیروں کے چھالے نہ گن

0
19
کھا گیا ہے وقت جانے کن حسینوں کا جمال
آئینے حیرت سے طاقوں پر کھڑے ہیں آج تک

0
13
ہم نے جس لمحے کو مٹھی میں جکڑنا چاہا
ریت بن کر میرے ہاتھوں سے پھسلتا ہی گیا

0
15
اک تماشا ہے سرِ بزمِ جہاں، اور کیا
ہم کھلونے ہیں فقط گردشِ دوراں کے لیے

0
25
​یاد ہے بچپن کی وہ معصوم سی چاہت مجھے
شادؔ دے جاتی ہے اب تک درد کی راحت مجھے

0
24
کاش حسرت ہی نکل جائے کسی دن عشق میں
شادؔ بھی تجھ کو پکارے ناز سے اے جانِ جاں

0
20
عشق میں اے شادؔ ہرگز زور چلتا ہی نہیں
یار گر مانگے جدائی، مسکرا کر مان لو

0
23
​صورتوں کے چاہنے والے بدلتے ہیں سدا
شادؔ قیدی روح کے آزاد ہوتے ہی نہیں

0
28
​مر جاتے ہیں صدمے سے فقط اہلِ فسانہ
ہم درد کی ہر حد سے گزر کر بھی جیے ہیں

0
20
تم نے دیکھا ہے کسی کو درد کا پیکر بنے
شادؔ رگ رگ میں اسے یوں ہی اترتے دیکھا

0
21
اپنے ہی خوں سے کیا ہے، شادؔ ہم نے سر بلند
کس لیے مانگیں بھلا ہم سایۂ دیوارِ دوست

0
33
خواب تو ٹوٹ کے بکھرے ہیں سرِ راہ مگر
شادؔ آنکھوں کی چمک ہم نے نہیں کھونے دی

0
19
عمر بھر کی پیاس لمحے بھر میں آ کر گھل گئی
آج تیری چشمِ تر سے چشمِ تر ملنے لگی

0
15
یہ سلیقہ بھی تو ہے فن میں کمالِ ضبط کا
ہم بچھڑ کر بھی ترا شکوہ نہ محفل میں کریں

0
20
یہ طلسماتی نگر ہے، شادؔ کیسی ہے فضا
ساتھ ہے شیطان یا کوئی فرشتہ ہے کھڑا

0
20
کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور ہے، اب اس کو بساؤں کیسے
روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر میں غمِ دل کو چھپاؤں کیسے
ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے بھلا اس کو جلاؤں کیسے

0
17
خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
حسرتیں تو بے شمار اب، میرے دل میں دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے پر، ان کو میں نے کب گنا

0
27
پلا دے عشق کا مجھ کو، چھلکتا جام اے ساقی
نہ ہوش اب ہو مرا باقی، ملے آرام اے ساقی
تری صورت ہی بستی ہے، مرے ان دیدہ و دل میں
تصور میں ترے روتے، کٹے ہر شام اے ساقی
نگاہِ لطف ہے تیری، مرا کل حاصلِ ہستی
ملا ہے عشق میں تیرے، بڑا انعام اے ساقی

0
34
​خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں
بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں
​سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو
مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں
​حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم
یقین و ہوش بھلا کر، گماں میں اترے ہیں

0
18
شکایت ہم نہیں کرتے کبھی اپنی سزاؤں پر
کہ ہم تو مسکراتے ہیں غموں کی ان گھٹاؤں پر
کبھی اہلِ یقیں ہمت نہیں ہارا کیے ہرگز
جو رکھتے ہیں قدم بڑھ کر، فلک پر کہکشاؤں پر
مصیبت، سختیاں ساری خوشی سے جھیل جاتے ہیں
نظر جن کی لگی رہتی ہے اونچی ان فضاؤں پر

0
25
نگاہوں میں ترا چہرہ، تو ہم کیسے بکھر جائیں
بتا اے جانِ من! ہم چھوڑ کر تجھ کو کدھر جائیں
تری صورت تری الفت کو ہم ترسے بہت جاناں
کہیں یادوں کے اس گہرے سمندر میں گزر جائیں
ہمیں ہر پل ستاتا ہے، تمہارا ہی خیال اب تو
تری چاہت کی بارش میں، تمنا ہے نکھر جائیں

0
21
آئینے میں نہ زلفیں سنوارا کرو
اپنی نظروں کا صدقہ اتارا کرو
دیکھ کر چاندنی بھی لجانے لگی
اس قدر تم نہ خود کو نکھارا کرو
اوڑھ لو تم ردائے محبت میری
میرے جذبات کو نہ ابھارا کرو

0
22
پیار کی راگنی کی ہے دُھن
آ ذرا دل کی دھڑکن کو سُن
دل میں ہر دم رہے تو ہی تو
تیری چاہت بھی گائے گی گُن
پھل ملے جس سے خوشیوں بھرا
خواب آنکھوں میں ایسے تو بُن

0
30
اک کسک سی مجھے رلانے لگے
یاد تیری مجھے ستانے لگے
سنگ تیرے جو پل گزارے کبھی
زندگی میں وہی سہانے لگے
یاد میں کھو گئے تری ہمنوا
حالِ دل اب تجھے سنانے لگے

0
22
یاد کی تتلی ہتھیلی پہ بٹھا لی میں نے
سوئی الفت بھی سرِ شام جگا لی میں نے
سامنے ہیں تیری باتوں کے چمکتے تارے
خوشبو قربت کی خیالوں میں بسا لی میں نے

0
11
وہ نازک موم کی صورت، پگھل جائے کسی دن بھی
دکھوں کی حدتوں سے تم، اسے ہر پل بچا رکھنا
یہ دل اس کا لگے سچے، گہر کی اک حسیں مالا
اسے آغوشِ الفت میں، مرے شادؔ اب چھپا رکھنا

0
17
یہ ہستی چاک پر رکھ کر، نیا پیکر سجا ڈالوں
امنگوں کی دہکتی آگ میں خواہش جلا ڈالوں
ترے رنگِ محبت سے اسے ایسا رچا ڈالوں
تو جیسا یار چاہے، آج میں ویسا بنا ڈالوں

0
21
یہ دل اس دید کی خاطر، بہت بیتاب رہتا ہے
مری آنکھوں میں ہر لمحہ، ملن کا خواب رہتا ہے
کہو اے شادؔ! یہ نظریں، اسے کیسے بھلا دیکھیں
کہ اس کے حسنِ کامل پر، حیا کا باب رہتا ہے

0
25
محبتوں کی ڈگر پر اسیرِ غم ٹھہرے
کبھی تھے خندہ جبیں ہم، فقیرِ غم ٹھہرے
جو حالِ دل کو بتائیں تو کس طرح جاناں
ہماری چشم کے آنسو سفیرِ غم ٹھہرے
مِلی ہے ہم کو محبت میں بس یہی دولت
کہ ہم دیارِ وفا میں امیرِ غم ٹھہرے

0
28
تو عدم سے اس جہاں میں، مجھ کو لایا میرے رب
میری بگڑی کو ہمیشہ ہی بنایا میرے رب
میری نیا ڈوبتی ہے اب گناہوں میں مگر
تو نے ہی اس کو کنارے پر لگایا میرے رب
آسرا تیرا، تجھی پر ہے بھروسہ آج بھی
اپنی جانب تو نے ہی مجھ کو بلایا میرے رب

0
52