| شبِ ہجراں، اکیلے اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے |
| یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے |
| پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے میرے ساقی تو |
| یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے |
| شبِ ہجراں، اکیلے اب، نہیں مجھ سے گزاری جائے |
| یہ کانٹوں کی بھری گٹھڑی، مرے سر سے اتاری جائے |
| پلا دے جامِ وصل ایسا، مجھے اے میرے ساقی تو |
| یہ بڑھتی دردِ الفت کی، سبھی دل سے خماری جائے |
معلومات