کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور ہے، اب اس کو بساؤں کیسے
روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر میں غمِ دل کو چھپاؤں کیسے
ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے بھلا اس کو جلاؤں کیسے
رات کٹتی ہے مری تاروں کو گنتے گنتے
دلِ ناداں کو سکوں آج دلاؤں کیسے
وقت نے شادؔ مجھے لا کے کہاں چھوڑا ہے
کون سا اب مرا رستہ ہے، بتاؤں کیسے

0
17