| یاد کی تتلی ہتھیلی پہ بٹھا لی میں نے |
| سوئی الفت بھی سرِ شام جگا لی میں نے |
| سامنے ہیں تیری باتوں کے چمکتے تارے |
| خوشبو قربت کی خیالوں میں بسا لی میں نے |
| یاد کی تتلی ہتھیلی پہ بٹھا لی میں نے |
| سوئی الفت بھی سرِ شام جگا لی میں نے |
| سامنے ہیں تیری باتوں کے چمکتے تارے |
| خوشبو قربت کی خیالوں میں بسا لی میں نے |
معلومات