یاد کی تتلی ہتھیلی پہ بٹھا لی میں نے
سوئی الفت بھی سرِ شام جگا لی میں نے
سامنے ہیں تیری باتوں کے چمکتے تارے
خوشبو قربت کی خیالوں میں بسا لی میں نے

0
5