| اک کسک سی مجھے رلانے لگے |
| یاد تیری مجھے ستانے لگے |
| سنگ تیرے جو پل گزارے کبھی |
| زندگی میں وہی سہانے لگے |
| یاد میں کھو گئے تری ہمنوا |
| حالِ دل اب تجھے سنانے لگے |
| جرمِ الفت کی یوں ملی ہے سزا |
| اشک آنکھوں سے ہم بہانے لگے |
| بات دل کی سدا چھپی رہ گئی |
| لب سلے جب اُسے بتانے لگے |
| یاد اس کی مٹا نہیں پائے ہم |
| دل کو سمجھا لیا، زمانے لگے |
| شادؔ مجبوری ان کی کیا تھی وہاں |
| اس قدر ہم کو آزمانے لگے |
معلومات