اک کسک سی مجھے رُلانے لگے
یاد تیری مجھے ستانے لگے
سنگ تیرے جو پل گزارے کبھی
زندگی میں وہی سہانے لگے
یاد تیری میں کھو کے اے ہمنوا
حالِ دل اب تجھے سنانے لگے
جرمِ الفت کی یوں ملی ہے سزا
اشک آنکھوں سے ہم بہانے لگے
بات دل کی سدا چھپی رہ گئی
لب سِلے جب اُسے بتانے لگے
یاد اس کی مٹا نہیں پائے ہم
دل کو سمجھانے میں زمانے لگے
شادؔ مجبوری تھی کوئی تو وہاں
کیوں تمھیں آج سب بہانے لگے

0
3