| تو عدم سے اس جہاں میں، مجھ کو لایا میرے رب |
| میری بگڑی کو ہمیشہ ہی بنایا میرے رب |
| میری نیا ڈوبتی ہے اب گناہوں میں مگر |
| تو نے ہی اس کو کنارے پر لگایا میرے رب |
| آسرا تیرا، تجھی پر ہے بھروسہ آج بھی |
| اپنی جانب تو نے ہی مجھ کو بلایا میرے رب |
| ڈوبتا ہوں میں گناہوں کے بھنور میں ہر گھڑی |
| عیب تو نے ہر قدم میرا چھپایا میرے رب |
| اک حقیر و بے نوا بندہ ترا جائے کہاں؟ |
| گھیر شیطانوں نے مجھ کو آج پایا میرے رب |
| قلب کو تائب گناہوں سے مرے اب کر بھی دے |
| نفس و شیطاں نے مجھے کتنا ستایا میرے رب |
| قید تجھ کو کیا زمان و کیا مکاں کی ہو بھلا؟ |
| نور سے تو نے جہاں سارا سجایا میرے رب |
| جانتا ہے حالِ دل تو، کُن فقط کہہ دے ذرا |
| حالِ دل میں نے تجھے اپنا سنایا میرے رب |
| فضل کر دے اب مرے مولا، کہ تیرے شادؔ نے |
| جنتوں کا خواب ہے دل میں سجایا میرے رب |
معلومات