| یہ ہستی چاک پر رکھ کر، نیا پیکر سجا ڈالوں |
| امنگوں کی دہکتی آگ میں خواہش جلا ڈالوں |
| ترے رنگِ محبت سے اسے ایسا رچا ڈالوں |
| تو جیسا یار چاہے، آج میں ویسا بنا ڈالوں |
| یہ ہستی چاک پر رکھ کر، نیا پیکر سجا ڈالوں |
| امنگوں کی دہکتی آگ میں خواہش جلا ڈالوں |
| ترے رنگِ محبت سے اسے ایسا رچا ڈالوں |
| تو جیسا یار چاہے، آج میں ویسا بنا ڈالوں |
معلومات