Circle Image

Asim Munir Aazi

@1

شہرِ دل کی حکومت ترے نام ہے
تو ہی میری سحر اور ہر شام ہے
مضطرب دل تجھے ڈھونڈے اب چار سو
تو نے ملنا مجھے یار کس بام ہے
ابتدا انتہا عاضی تو ہے مری
تو مرے دل کی دھڑکن کا پیغام ہے

0
3
یہ پیاسِ محبت بجھاؤ صنم
لبوں سے لبوں کو ملاؤ صنم
کہ پردے میں رہنا انوکھا لگے
قبا اب بدن سے ہٹاؤ صنم
میں چوموں تجھے سر سے پاؤں تلک
کبھی باہوں میری تو آؤ صنم

0
3
تھا اشتیاق تیری محفل میں آتے عاضی
پر جکڑا ہے مجھے ان پاؤں کی بیڑیوں نے

0
4
کتنے دن جاری رہے گا کھیل عاضی دنیا کا
لوٹ کر سب اس جہاں سے آج یا کل جائیں گے

0
18
اتنی کڑی تھی دھوپ کہ بادل ابل پڑے
جینا محال ہو گیا ایسے حصار میں
ٹولہ ستم گروں کا بجانے لگا تھا ساز
دیکھا جو سر شبیر کا خنجر کی دھار میں
کاٹوں گا ہاتھ اس کے جو کیچڑ اچھالے عاضی
دامن کو صاف رکھنا ہے میرے شعار میں

0
47
یہ روشن ستارہ یہ پرچم ہلالی
سدا یہ رہے سب سے اونچا مثالی
کہ چھوڑو بھی تفریق اب یہ لسانی
اگر فصلِ گل ہے یہاں پر اگانی
خدارا مٹاؤ یہ ذہنی غلامی
ملے گا اسے پھر عروجِ دوامی

0
17