Circle Image

Najeeb ur Rehman Naz

@NajeebNaz

جمال یار کا جلوہ مرے خدا دیکھوں
دل فسردہ کی مقبول یہ دعا دیکھوں
گھٹا ستم کی چھٹے امن کی فضا دیکھوں
اندھیری رات کٹے صبح جانفزا دیکھوں
دلوں کو زخم لگانا تو کوئی بات نہیں
شکستہ دل کو کبھی جوڑ کر دکھا، دیکھوں

0
2
درودِ پاک پڑھا، جب بھی ان کا نام لیا
کرم نے ان کے مرا ہاتھ تھام تھام لیا
زہے نصیب مرے لب پہ ہے درود و سلام
اسی سے دل کا سکوں میں نے ہے مدام لیا
سعادتیں مجھے بخشیں ثنائے احمد کی
خدائے پاک نے مجھ سے بڑا یہ کام لیا

0
44
ذکر ان کا ہو رہا ہے کو بہ کو
خوشبوؤں سے پُر فضا ہے کو بہ کو
اسم احمد سے منور کائنات
نور یہ پھیلا ہوا ہے کو بہ کو
تیرے آنے سے بہاریں آگئیں
قریہ قریہ سج گیا ہے کو بہ کو

0
13
صد شکر ہوا ہم کو ہے رمضان میسر
آیا ہے یہ اللہ کا مہمان میسر
لے کر تو نوید آتا ہے رحمت کی کرم کی
ہوتا ہے سیہ کار کو غفران میسر
اک شب ہے تری کتنے مہینوں سے بھی افضل
ہے اور کہاں ایسا شبستان میسر

0
23
بزمِ ہستی مرے خدا کیا ہے
یہ زمیں کیا ہے اور سما کیا ہے
دردِ دل سے سکون ملتا ہے
کس سے پوچھوں مجھے ہوا کیا ہے
خود ہی غفلت شعار تھے ہم تو
اب کسی سے کوئی گلہ کیا ہے

48
کوئی پیغام ہی امید فزا دیکھو تو
کچھ تو بے تابیِ دل کی ہو دوا دیکھو تو
آنکھ جھپکے نہ بہک پائیں ذرا ہوش و حواس
کس میں یہ تابِ تجلی ہے بھلا دیکھو تو
میرے حصے میں زمانے کے سبھی درد سہی
تم سلامت رہو دیتا ہوں دعا دیکھو تو

13
خوف و دہشت ہے ہر سو چھائی ہے
ظلم نے دھاک یہ بٹھائی ہے
صرف تیرے کرم پہ تکیہ ہے
کام آتی نہ پارسائی ہے
اس کا نشہ نہ عمر بھر اترا
تیری آنکھوں نے جو پلائی ہے

0
24
بزم سجتی ہے جب خیالوں کی
یاد آتی ہے بیتے سالوں کی
پوچھتے ہیں کہ دل پہ کیا گزری
سادگی دیکھ مہ جمالوں کی
ایسی روشن جبیں کہ ڈرتا ہوں
لگ نہ جائے نظر اجالوں کی

0
45
زہے قسمت سعادت یہ عطا ہو
دل و جاں سب محمد ﷺ پر فدا ہو
مرا مقصود بس تیری غلامی
زمانہ مجھ سے ہوتا ہے خفا ہو
تڑپتا رہتا ہے ہجرِ نبی میں
دلِ بے تاب کی کوئی دوا ہو

0
61
عشق تیرا ہے بندگی میری
تجھ پہ مٹنا ہے زندگی میری
نامِ نامی زباں پہ آتے ہی
بات بگڑی ہوئی بنی میری
ہر برائی کا میں تو پیکر ہوں
لاج رکھیو مرے نبی میری

0
100
خدا سے مانگی ہیں رو رو کے عظمتیں تیری
مرے وطن مجھے مطلوب رفعتیں تیری
ہے میرے درد کا درماں تری ہی یادوں میں
بسی ہوئی ہیں مرے دل میں چاہتیں تیری
میں کیوں نہ تجھ کو دل و جان سے عزیز کہوں
مرے تو شاملِ ایماں ہیں الفتیں تیری

0
91
کبھی مجھ کو اپنا بنا کر تو دیکھو
مجھے پاس اپنے بلا کر تو دیکھو
میں خود سے سوا تم کو چاہوں گا ہر دم
مجھے تم کبھی آزما کر تو دیکھو
شفا یاب ہوگا مریضِ محبت
کبھی اپنی صورت دکھا کر تو دیکھو

0
370
جہاں تیری محفل سجی دیکھتے ہیں
زمیں تا فلک روشنی دیکھتے ہیں
کبھی جو تری ہم گلی دیکھتے ہیں
ردا نور کی اک تنی دیکھتے ہیں
سرِ حشر ہیں پارسا محوِ حیرت
گناہگاروں کی جو بنی دیکھتے ہیں

0
91